سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 230
سیرت المہدی 230 حصہ اوّل 250 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب نے ایک موقعہ پر کپتان ڈگلس کے سامنے فرمایا کہ مجھ پر قتل کا الزام لگایا گیا ہے اور آگے بات کرنے لگے تو اس پر ڈگلس فورا بولا کہ میں تو آپ پر کوئی الزام نہیں لگا تا اور جب اس نے فیصلہ سنایا تو اُس وقت بھی اُس نے یہ الفاظ کہے کہ مرزا صاحب! میں آپ کو مبارک دیتا ہوں کہ آپ بری ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈگلس اُن دنوں میں ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اور فوجی عہدہ کے لحاظ سے کپتان تھا۔اس کے بعد وہ ترقی کرتے کرتے جزائر انڈیمان کا چیف کمشنر ہو گیا۔اور اب پنشن لے کر ولایت واپس جاچکا ہے۔اس وقت اس کا فوجی عہدہ کر نیل کا ہے۔آدمی غیر متعصب اور سمجھ دار اور شریف ہے۔ولایت میں ہمارے مبلغ مولوی مبارک علی صاحب بنگالی نے ۲۸ جولائی ۱۹۲۲ء کو اس سے ملاقات کی تو اس نے خود بخود انکے ساتھ اس مقدمہ کا ذکر شروع کر دیا اور کہنے لگا ” میں غلام احمد ( مسیح موعود ) کو جانتا تھا اور میرا یقین تھا کہ وہ نیک بخت اور دیانتدار آدمی ہیں اور یہ کہ وہ اسی بات کی تعلیم دیتے ہیں جس کا انہیں خود یقین ہے۔لیکن مجھے ان کی موت کی پیشگوئیاں پسند نہ تھیں کیونکہ وہ بڑی مشکلات پیدا کرتی تھیں۔پھر اس نے مقدمہ کے حالات سنائے اور کہا کہ وہ لڑکا نظام دین ( خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈگلس صاحب بھول گئے ہیں اس لڑکے کا نام عبدالحمید تھا) ہر روز کوئی نئی بات بیان کرتا تھا اور اس کی کہانی ہر دفعہ زیادہ مکمل و مبسوط ہوتی جاتی تھی اس لئے مجھے اس کے متعلق شبہ پیدا ہوا اور میں نے دریافت کیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ مشنریوں کے پاس ٹھہرا ہوا ہے جو اسے سکھاتے رہتے ہیں۔چنانچہ میں نے حکم دیا کہ وہ مشنریوں کی نگرانی سے الگ کر کے پولیس کی نگرانی میں رکھا جاوے۔اس سے میرا مطلب حل ہو گیا یعنی نظام دین آخر اقبالی ہو کر میرے قدموں پر گر گیا اور اس نے اقرار کیا کہ یہ ساری بات محض افتراء ہے۔ڈگلس نے سلسلہ کی اس حیرت انگیز ترقی پر بڑا تعجب ظاہر کیا اور کہا کہ مجھے گمان نہ تھا کہ مرزا غلام احمد کا قائم کیا ہوا سلسلہ اتنی ترقی کر جائے گا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا