سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 228
سیرت المهدی 228 حصہ اوّل رکھتے تھے اور اردگر دمشتاقین گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے تھے اور پھر مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہتی تھیں اور گویا تعلیم وتربیت کا سبق جاری ہو جاتا تھا۔مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ محسوس کرتے تھے کہ علم و معرفت کا چشمہ پھوٹ رہا ہے۔جس سے ہر شخص اپنے مقدور کے موافق اپنا برتن بھر لیتا تھا۔مجلس میں کوئی خاص ضابطہ نہ ہوتا تھا بلکہ جہاں کہیں کسی کو جگہ ملتی تھی بیٹھ جاتا تھا اور پھر کسی کو کوئی سوال پوچھنا ہوا تو اس نے پوچھ لیا اور حضرت صاحب نے جواب میں کوئی تقریر فرما دی یا کسی مخالف کا ذکر ہو گیا تو اس پر گفتگو ہوگئی یا حضرت نے اپنا کوئی نیا الہام سنایا تو اس کے متعلق کچھ فرما دیا، یا کسی فرد یا جماعت کی تکالیف کا ذکر ہوا تو اسی پر کلام کا سلسلہ شروع ہو گیا۔غرض آپ کی مجلس میں ہر قسم کی گفتگو ہو جاتی تھی اور ہر آدمی جو بولنا چاہتا تھا بول لیتا تھا۔جب حضرت گفتگو فرماتے تھے تو سب حاضرین ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ خواہ کوئی پلک تقریر ہو یا مجلسی گفتگو ہو۔ابتداء میں دھیمی آواز سے بولنا شروع کرتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ آواز بلند ہو جاتی تھی حتی کہ دور سے دور بیٹھا ہوا شخص بھی بخوبی سن سکتا تھا۔اور آپ کی آواز میں ایک خاص قسم کا سوز ہوتا تھا۔248 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ مارٹن کلارک کے مقدمہ میں ایک شخص مولوی فضل دین لاہوری حضور کی طرف سے وکیل تھا۔یہ شخص غیر احمدی تھا اور شاید اب تک زندہ ہے اور غیر احمدی ہے۔جب مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت صاحب کے خلاف شہادت میں پیش ہوا تو مولوی فضل دین نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو میں مولوی محمد حسین صاحب کے حسب ونسب کے متعلق کوئی سوال کروں۔حضرت صاحب نے سختی سے منع فرما دیا کہ میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور فرمایا ” لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ“ (النِّسَاء : ۱۴۹) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ خود مولوی فضل دین نے باہر آکر ہم سے بیان کیا تھا اور اس پر اس بات کا بڑا اثر ہوا تھا۔چنانچہ وہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب نہایت عجیب اخلاق کے آدمی ہیں۔ایک پرلے درجے کا دشمن ہے اور وہ اقدام قتل کے مقدمہ میں آپ کے خلاف شہادت میں پیش ہوتا ہے اور میں اس کا حسب و نسب پوچھ کر اس کی حیثیت کو چھوٹا کر کے اس کی شہادت کو کمزور کرنا چاہتا ہوں اور اس سوال کی ذمہ داری بھی مرزا صاحب پر نہیں تھی بلکہ مجھ پرتھی۔مگر میں نے جب پوچھا تو آپ نے بڑی سختی سے روک دیا کہ ایسے سوال کی میں ہرگز اجازت نہیں