سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 16
سیرت المہدی 16 حصہ اوّل جیسے کہ حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۶۹٫۳۶۵ میں تشریح کی جاچکی ہے۔حضرت مسیح موعود کو حقیقتاً ہسٹیر یانہیں تھا چنانچہ خود حضرت مسیح موعود نے جہاں کہیں بھی اپنی تحریرات میں اپنی اس بیماری کا ذکر کیا ہے۔وہاں اس کے متعلق کبھی بھی ہسٹیر یا وغیرہ کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی علم طب کی رو سے دوران سر کی بیماری کسی صورت میں ہسٹیریا یا مراق کہلا سکتی ہے۔بلکہ دوران سر کی بیماری کے لئے انگریزی میں غالباور ٹیگو کا لفظ ہے جو غالباً سردرد ہی کی ایک قسم ہے جس میں سر میں چکر آتا ہے اور گردن وغیرہ کے پٹھوں میں کھچاوٹ محسوس ہوتی ہے۔اور اس حالت میں بیمار کے لئے چلنا یا کھڑے ہو نا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن ہوش وحواس پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔چنانچہ خاکسار راقم الحروف نے متعدد دفعہ حضرت مسیح موعود کو دورے کی حالت میں دیکھا ہے اور کبھی بھی ایسی حالت نہیں دیکھی۔جس میں ہوش و حواس پر کوئی اثر پڑا ہو اور حضرت مسیح موعود کی یہ بیماری بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھی۔جس میں بتایا گیا تھا که مسیح موعود دو زرد چادروں (یعنی دو بیماریوں) میں لپٹا ہوا نازل ہوگا۔دیکھومشکواۃ باب اشراط الساعة بحواله مسلم وغیرہ۔اور روایت میں جو یہ لفظ آتے ہیں کہ پہلے دورے کے وقت آپ نے کوئی کالی کالی چیز آسمان کی طرف اٹھتی دیکھی۔سو دوران سر کے عارضہ میں یہ ایک عام بات ہے کہ سر کے چکر کی وجہ سے ارد گرد کی چیزیں گھومتی ہوئی اوپر کو اٹھتی نظر آتی ہیں اور بوجہ اس کے کہ ایسے دورے کے وقت مریض کا میلان آنکھیں بند کر لینے کی طرف ہوتا ہے۔عموماً یہ چیزیں سیاہ رنگ اختیار کر لیتی ہیں اور دورے میں خشی کی سی حالت ہو جانے سے جیسا کہ خود الفاظ بھی اسی حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں۔حقیقی غشی مراد نہیں بلکہ بوجہ زیادہ کمزوری کے آنکھیں نہ کھول سکنا یا بول نہ سکنا مراد ہے۔واللہ اعلم) مزید بصیرت کے لئے روایات نمبر ۲۹۳٬۸۱ اور ۴۵۹ بھی ملاحظہ کی جائیں جن سے اس سوال پر مزید روشنی پڑتی ہے۔20 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی بیعت لدھیانہ میں لی تھی۔پہلے دن چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی پھر جب آپ گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بیعت کی۔سب سے پہلے مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب ) نے