سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 15
سیرت المہدی 15 حصہ اوّل پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کیلئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے مخلص خادم تھے اب فوت ہو چکے ہیں ) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہوگئی ہے۔میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔میں نماز پڑھا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اُٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے پھر میں چیخ مارکر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا۔والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پیٹھے کھیچ جاتے تھے خصوصا گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی۔خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مسیحیت کے دعویٰ سے پہلے کی بات ہے۔اس روایت میں جو حضرت مسیح موعود کے دوران سر کے دوروں کے متعلق حضرت والدہ صاحبہ نے ہسٹیریا کالفظ استعمال کیا ہے۔اس سے وہ بیماری مراد نہیں ہے جو علم طب کی رو سے ہسٹیریا کہلاتی ہے۔بلکہ یہ لفظ اس جگہ ایک غیر طبی رنگ میں دوران سر اور ہسٹیریا کی جزوی مشابہت کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔ورنہ