سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 14

سیرت المہدی 14 حصہ اوّل صاحب نے ان تینوں انگوٹھیوں کے متعلق ہم تینوں بھائیوں کے لئے قرعہ ڈالا۔اليْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی بڑے بھائی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اسیح ثانی کے نام نکلی۔غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِی وَقُدْرَتِي ( تذكره صفحه ۴۲۸ حاشیه مطبوع ۲۰۰۴ء) والی خاکسار کے نام اور مولا بس“ والی عزیزم میاں شریف احمد صاحب کے نام نکلی۔ہمشیرگان کے حصہ میں دو اور اسی قسم کے تبرک آئے۔17 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا کہ ایک دفعہ میں کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔عدالت میں اور اور مقدمے ہوتے رہے اور میں باہر ایک درخت کے نیچے انتظار کرتا رہا۔چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اس لئے میں نے وہیں نماز پڑھنا شروع کر دی۔مگر نماز کے دوران میں ہی عدالت سے مجھے آواز میں پڑنی شروع ہو گئیں مگر میں نماز پڑھتا رہا۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس عدالت کا بہرا کھڑا ہے۔سلام پھیرتے ہی اس نے مجھے کہا مرزا صاحب مبارک ہو آپ مقدمہ جیت گئے ہیں۔18 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جوانی کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں مجھ کو معلوم ہوا یا فر مایا اشارہ ہوا کہ اس راہ میں ترقی کرنے کے لئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔فرماتے تھے پھر میں نے چھ ماہ لگا تار روزے رکھے اور گھر میں یا با ہرکسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ میں روزہ رکھتا ہوں۔صبح کا کھانا جب گھر سے آتا تھا تو میں کسی حاجتمند کو دے دیتا تھا اور شام کا خود کھا لیتا تھا۔میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ آخر عمر میں بھی آپ نفلی روزے رکھتے تھے یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ آخر عمر میں بھی آپ روزے رکھا کرتے تھے خصوصا شوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دعا کرنا ہوتی تھی تو آپ روزہ رکھتے تھے ہاں مگر آخری دو تین سالوں میں بوجہ ضعف و کمزوری رمضان کے روزے بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔( خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب البریہ میں حضرت صاحب نے روزوں کا زمانہ آٹھ نوماہ بیان کیا ہے ) 19 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو