سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 197
سیرت المہدی 197 حصہ اوّل تھا اور میں چاہتا تھا کہ وہ کچھ عرصہ اور ٹھہرے۔184 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عزیزم مرزا رشید احمد صاحب ( جومرزا سلطان احمد صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے ) کے ذریعے مرزا سلطان احمد صاحب سے دریافت کیا تھا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود کے سن ولادت کے متعلق کیا علم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔۱۸۳۶ء میں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔185 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے افسر ڈاک ( یعنی پرائیویٹ سیکرٹری) کی معرفت مرزا سلطان احمد صاحب سے دریافت کیا تھا کہ آپ کی پیدائش کس سال کی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اچھی طرح معلوم نہیں۔بعض کاغذوں میں تو ۱۸۶۴ء لکھا ہے۔مگر ہندو پنڈت مجھے کہتا تھا کہ میری پیدائش ۱۹۱۳ء بکرمی کی ہے اور میں نے سنا ہے کہ والد صاحب کی عمر میری ولادت کے وقت کم و بیش اٹھارہ سال کی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے۔۱۹۱۳ء بکرمی والی روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ دوسرے قرائن اس کے مؤید ہیں۔نیز یہ بات بھی اس کے حق میں ہے کہ ہندو عموماً جنم پتری کی حفاظت میں بہت ماہر ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے مرزا سلطان احمد صاحب کی پیدائش ۱۸۵۶ء کے قریب کی بنتی ہے۔اور اگر اس وقت حضرت صاحب کی عمر ۱۸ یا ۱۹ سال سمجھی جاوے تو آپ کا سن ولادت وہی ۳۷۔۱۸۳۶ء کے قریب پہنچتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ ۱۸۳۶ء والی روایت صحیح ہے۔اس کا ایک اور بھی ثبوت ہے اور وہ یہ کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے (دیکھو لتبلیغ آئینہ کمالات اسلام ) اور بیان بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہماری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے تھے اور فراخی میتر آگئی تھی اور اسی لئے وہ میری پیدائش کو مبارک سمجھا کرتی تھیں۔اب یہ قطعی طور پر یقینی ہے کہ راجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں ہی خاندان کے مصائب کے دن دور ہو کر فراخی شروع ہوگئی تھی اور قادیان اور اس کے اردگرد کے بعض مواضعات دادا صاحب کو راجہ رنجیت سنگھ نے بحال کر دئیے تھے اور دادا صاحب کو اپنے ماتحت ایک معزز عہدہ فوجی بھی دیا تھا اور راجہ کے ماتحت دادا صاحب نے بعض