سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 196
سیرت المہدی 196 حصہ اوّل یا درکھنا خصوصاً جب وہ ایسے واقعات کے متعلق ہوں جو منفرد ہیں اور سلسلہ واقعات کی کسی لڑی میں منسلک نہیں۔ایک ایسے شخص کیلئے خصوصاً مشکل ہوتا ہے جس کا دماغ کسی نہایت اعلیٰ کام کیلئے بنایا گیا ہو۔درحقیقت واقعات کی تاریخوں کو یاد رکھنے کے متعلق جو حافظہ کی طاقت ہے وہ انسانی دماغ کی دوسری طاقتوں کے مقابلہ میں ایک ادنی طاقت ہے بلکہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کی یہ طاقت تیز ہوتی ہے وہ بالعموم دماغ کے اعلیٰ طاقتوں میں فروتر ہوتے ہیں۔واللہ اعلم 182 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب نے تم بچوں کی شادیاں تو چھوٹی عمر میں ہی کر دی تھیں مگر اُن کا منشاء یہ تھا کہ زیادہ اختلاط نہ ہو تاکہ نشوونما میں کسی قسم کا نقص پیدا نہ ہو۔183 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کہ جب میں پہلے پہل قادیان آیا تو اُسی دن شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری بھی ایک عیسائی نوجوان کو مسلمان کرنے کیلئے ساتھ لائے تھے۔ہم دونوں اکٹھے ہی حضرت مسیح موعود کے سامنے پیش ہوئے۔لیکن حضرت مسیح موعود نے میری بیعت تو لے لی اور اسکو درخواست بیعت کے خط کے جواب میں لکھا کہ پھر بیعت لیں گے ابھی ٹھہر وحالانکہ اُس کو حضرت صاحب کے سامنے شیخ رحمت اللہ صاحب نے پیش کیا تھا جو ایک بڑے آدمی تھے اور حضرت صاحب کو اُن کا بہت خیال تھا۔اس عیسائی نوجوان نے دوبارہ حضرت صاحب کو لکھا مگر اس دفعہ بھی حضرت صاحب نے یہی جواب دیا کہ پھر بیعت لیں گے۔پھر اس نے تیسری دفعہ لکھا کہ کوئی دن مقرر کر دیا جائے۔اس دن غالباً منگل یا بدھ تھا۔حضرت صاحب نے کہا جمعرات کے دن بیعت لیں گے۔یہ جواب لے کر وہ شخص ناراض ہو کر چلا گیا اور پھر عیسائی ہو گیا۔اس کے بعد کسی نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ وہ لڑکا تو واپس جا کر عیسائی ہو گیا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں بھی اسی لئے توقف کرتا تھا اور فرمایا کہ جولوگ ہندوؤں سے مسلمان ہوتے ہیں وہ عموماً سچے دل سے ہوتے ہیں۔اور ان میں ایمان کی محبت ہوتی ہے۔مگر عیسائیوں میں سے اسلام کی طرف آنے والے بالعموم قابل اعتبار نہیں ہوتے۔مجھے اس لڑکے پر اعتماد نہیں