سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 198 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 198

سیرت المہدی 198 حصہ اوّل فوجی خدمات بھی سرانجام دی تھیں۔پس بہر حال حضرت صاحب کی پیدائش رنجیت سنگھ کی موت یعنی ۱۸۳۹ء سے کچھ عرصہ پہلے مانی پڑے گی۔لہذا اس طرح بھی ۱۸۳۶ ء والی روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔وهو المراد اور حضرت صاحب نے جو ۱۸۳۹ ء لکھا ہے سو اس کو خود آپ کی دوسری تحریر میں رد کرتی ہیں۔چنانچہ ایک جگہ آپ نے ۱۹۰۵ء میں اپنی عمر ۷۰ سال بیان کی ہے اور وہاں یہ بھی لکھا ہے یہ تمام اندازے ہیں۔صحیح علم صرف خدا کو ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری تحقیق میں اوائل ۱۲۵۲ھ میں آپ کی ولادت ہوئی تھی اور وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی۔واللہ اعلم۔186 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے۔کہ میں بچپن میں والد صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تاریخ فرشتہ نحومیر اور شائد گلستان۔بوستان پڑھا کرتا تھا اور والد صاحب کبھی کبھی پچھلا پڑھا ہوا سبق بھی سنا کرتے تھے۔مگر پڑھنے کے متعلق مجھ پر کبھی ناراض نہیں ہوئے۔حالانکہ میں پڑھنے میں بے پرواہ تھا لیکن آخر دادا صاحب نے مجھے والد صاحب سے پڑھنے سے روک دیا اور کہا کہ میں نے سب کو ملاں نہیں بنا دینا تم مجھ سے پڑھا کرو مگر ویسے دادا صاحب والد صاحب کی بڑی قدر کرتے تھے۔187 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی چنانچہ آخری عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اُترنے لگے تھے سامنے سٹول رکھا تھا وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جاسکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اُٹھا سکتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔188 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب تیرنا اور سواری خوب جانتے تھے۔اور سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بچپن میں میں ڈوب چلا تھا۔تو ایک اجنبی بڑھے سےشخص نے مجھے نکالا تھا