سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 193
سیرت المہدی 193 حصہ اوّل ہیں عموماً خانگی اخلاق پر روشنی ڈالی ہے۔اور ہر بات کی بنا اپنے ذاتی مشاہدہ پر رکھی ہے اور چونکہ مولوی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود کے مکان کے ایک حصہ میں ہی رہتے تھے اس لئے ان کو حضرت صاحب کے اخلاق و عادات کے مطالعہ کا بہت اچھا موقعہ میسر تھا اس پر خدا نے تقریر وتحریر کی طاقت بھی خاص عطا کی تھی۔یہ رسالہ نہایت دلچسپ اور قابل دید ہے۔روایات چونکہ سب حضرت مولوی صاحب مرحوم کی ذاتی ہیں اس لئے شک وشبہ کی گنجائش سے بالا ہیں۔ہاں مولوی صاحب کے قلم کے زور نے ان کو بعض جگہ الفاظ کی پابندی سے آزاد کر دیا ہے یعنی معلوم ہوتا ہے کہ کہیں کہیں مفہوم لے کر واقعات کو اپنے طرز کلام میں بیان کر دیا ہے۔تاریخ تصنیف جنوری ۱۹۰۰ ء ہے۔حضرت مولوی صاحب موصوف کی وفات ۱۹۰۵ء میں ہوئی تھی۔کیا خوب ہوتا اگر مولوی صاحب اس رسالہ کو زیادہ مکمل ومبسوط کر جاتے۔یہ رسالہ سوانح کے حصہ سے بالکل خالی ہے یعنی سیرت وخلق ذاتی پر روشنی ڈالنے کیلئے صرف جستہ جستہ واقعات لے لئے ہیں مگر ہر لفظ عشق و محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ناظرین اس مختصر رسالہ کا ضرور مطالعہ کریں۔(۲) احمد علیہ السلام بزبان انگریزی مصنفہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مولوی صاحب موصوف پرانے احمدی ہیں۔غالباً ۱۸۹۷ء میں احمدی ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری چند سال قادیان ہجرت کر آئے تھے اور حضرت صاحب نے ان کو اپنے مکان کے ایک حصہ میں جگہ دی تھی اور یو یو کی ایڈیٹری ان کے سپرد کی تھی۔مولوی صاحب حضرت صاحب کے زمانہ میں مقربین میں سمجھے جاتے تھے مگر افسوس اپنے بعض دوستوں اور نیز زمانہ کے اثر کے نیچے آ گرفتنہ کی رو میں بہہ گئے۔ان کی انگریزی تصنیف ”احمد علیہ السلام، مختصر طور پر حضرت مسیح موعود کے سوانح اور سیرت پر مشتمل ہے اور دلچسپ پیرایہ میں لکھی گئی ہے ، سوانح کے معاملے میں کوئی خاص تحقیق نہیں کی گئی بلکہ عام معروف باتوں کو لکھ دیا ہے۔سیرت کا حصہ عموماً اپنے ذاتی مشاہدہ پر بنی ہے اور عمدہ طور پر لکھا گیا ہے، تاریخ تصنیف ۱۹۰۶ ء ہے۔(۳) حضرت مسیح موعود کی زندگی کے مختصر حالات مصنفہ میاں معراج دین صاحب عمر لا ہوری میاں صاحب موصوف پرانے احمدی ہیں۔ہجرت نہیں کی لیکن حضرت مسیح موعود کی صحبت کافی اٹھائی ہے اور ذہین اور منشی آدمی ہیں۔یہ مضمون براہین احمدیہ کے ایک ایڈیشن کے ساتھ شامل ہوکر شائع ہوا ہے۔اور