سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 192
سیرت المہدی 192 حصہ اوّل میاں صاحب کی ملاقات کا بہت شوق ہے اور میرا ارادہ ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام کیفیت بیان کروں پھر چاہے شائع بھی کر دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔باقی میرے دل کی حالت کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے متعلق آریوں نے لیکھرام کی وجہ سے اور عیسائیوں نے آٹھم کی وجہ سے مجھے لاکھ لاکھ روپیہ تک دینا چاہا تا میں کسی طرح مرزا صاحب پر کوئی نالش کروں۔اگر وہ روپیہ میں لے لیتا تو امیر کبیر بن سکتا تھا۔مگر وہی اعتقاد اور ایمان تھا جس نے مجھے اس فعل سے روکا۔پھر میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کے گھر والوں ( محمدی بیگم صاحبہ ) نے کوئی رؤیا دیکھی ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا مجھ سے تو انہوں نے ذکر نہیں کیا مگر آپ احمد بیگ ( ہیڈ کلرک احمدی) کے ذریعہ میرے گھر سے خود دریافت کر سکتے ہیں۔چنانچہ مرزا احمد بیگ صاحب نے ان کو اپنے گھر بلوایا اور دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ جس وقت فرانس سے اُن کو ( یعنی مرزا سلطان محمد صاحب کو ) گولی لگنے کی اطلاع مجھے ملی تو میں سخت پریشان ہوئی اور میرا دل گھبرا گیا۔اسی تشویش میں مجھے رات کے وقت مرزا صاحب رویا میں نظر آئے اُن کے ہاتھ میں ایک دودھ کا پیالہ ہے اور وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ لے محمدی بیگم یہ دودھ پی لے اور تیرے سر کی چادر سلامت ہے فکر نہ کر۔اس سے مجھے ان کی خیریت کے متعلق اطمینان ہو گیا۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے مرزا احمد بیگ صاحب احمدی سے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تھا۔چنانچہ انہوں نے اس کی پوری پوری تصدیق کی۔181 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت یا سوانح کے متعلق جو تصنیفات احمدیوں کی طرف سے اس وقت تک شائع ہو چکی ہیں وہ یہ ہیں۔(۱) سیرۃ مسیح موعود مصنفہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مولوی صاحب مرحوم اکابر صحابہ میں سے تھے اور حضرت مولوی صاحب یعنی خلیفہ اول کے بعد جماعت میں انہی کا مرتبہ سمجھا جاتا تھا۔یہ تصنیف نہایت مختصر ہے لیکن چونکہ مولوی صاحب مرحوم کی طبیعت نہایت ذکی اور نکتہ سنج واقع ہوئی تھی اس لئے بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور اچھے اچھے استدلال کئے