سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 191
سیرت المہدی 191 حصہ اوّل ہیں جو بیان نہیں کئے گئے کیونکہ یہ موقع پیشگوئیوں کے اصول بیان کر نیک نہیں ہے بلکہ حضرت مسیح موعود کی سیرت وسوانح کے بیان کرنے کا ہے۔180 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ جمال احمد صاحب جو سلسلہ کے ایک مبلغ ہیں ایک دفعہ پہنی گئے اور مرزا سلطان محمد بیگ صاحب سے ملے تھے۔اس ملاقات کے متعلق وہ ۹٫۱۳ جون ۱۹۲۱ء کے اخبار الفضل قادیان میں لکھتے ہیں کہ ” عند الملاقات میں نے مرز اسلطان محمد صاحب سے سوال کیا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں حضرت مرزا صاحب کی نکاح والی پیشگوئی کے متعلق کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں جسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ بخوشی بڑی آزادی سے دریافت کریں اور کہا کہ میرے خسر مرزا احمد بیگ صاحب واقعہ میں عین پیشگوئی کے مطابق فوت ہوئے ہیں مگر خدا تعالیٰ غفور الرحیم بھی ہے اپنے دوسرے بندوں کی بھی سنتا اور رحم کرتا ہے اس سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے میری زاری و دعا کی وجہ سے وہ عذاب مجھ سے ٹال دیا۔پھر میں نے ان سے سوال کیا۔آپ کو حضرت مرزا صاحب کی اس پیشگوئی پر کوئی اعتراض ہے؟ یا یہ پیشگوئی آپ کیلئے کسی شک وشبہ کا باعث ہوئی ہے؟ جسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ایمان سے کہتا ہوں کہ یہ پیشگوئی میرے لئے کسی شبہ کا باعث نہیں ہوئی۔پھر میں نے سوال کیا کہ اگر پیشگوئی کی وجہ سے آپ کو حضرت مرزا صاحب پر کوئی اعتراض یا شک و شبہ نہیں تو کیا کوئی اور ان کے دعوی کے متعلق آپ کو اعتراض ہے۔جس کی وجہ سے آپ ابھی تک بیعت کرنے سے رکے ہوئے ہیں؟ اس پر بھی انہوں نے خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر یہی جواب دیا کہ مجھے کسی قسم کا بھی اُن پر اعتراض نہیں بلکہ جب میں انبالہ چھاؤنی میں تھا تو ہمارے رشتہ داروں میں سے ایک احمدی نے مرزا صاحب کے متعلق میرے خیالات دریافت کئے تھے جس کا میں نے اس کو تحریری جواب دیدیا تھا۔( خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تحریر رسالہ تحیذ میں چھپ چکی ہے۔) اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر بیعت کیوں نہیں کرتے ؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے وجوہات اور ہیں جن کا اس وقت بیان کرنا میں مصلحت کے خلاف سمجھتا ہوں۔میں بہت چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ قادیان جاؤں کیونکہ مجھے حضرت