سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 172 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 172

سیرت المہدی 172 حصہ اوّل ہمیشہ ان کی یہی دلیل ہوتی ہے کہ بس جو صورت اور الفاظ جو پیشگوئی میں بتائے گئے ہیں بعینہ وہی وقوع میں آنے چاہئیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ پیشگوئی غلط گئی۔حالانکہ یہ شرط اظہار علم والی پیشگوئیوں کی ہے۔بلکہ ان میں مجاز کا دخل مانا جاوے تو ان کے لئے بھی ظاہری صورت کا فرق ہوسکتا ہے۔گو تخلف اور نسخ ممکن نہیں ، کیونکہ تخلف اور انسخ علم ازلی کے منافی ہیں۔لیکن اظہار قدرت والی پیشگوئیوں میں حالات کے بدل جانے سے تخلف ہوسکتا ہے۔کیونکہ حالات بدل جانے کی صورت میں تخلف قدرت نمائی کے منافی نہیں ہوتا بلکہ مؤید ہوتا ہے۔دونوں قسم کی پیشگوئیوں کی مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ مثلاً کسی ملہم کو کسی شخص کے متعلق الہام ہوتا ہے کہ وہ فلاں کام کرے گا۔اور حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ الہام خدا کی صفت علیم کے ماتحت ہے۔صفت قدیر کے ماتحت نہیں ہے۔یعنی اس کے اس فعل کے کر لینے کو خدا کی قدرت کے اظہار سے کوئی طبعی تعلق نہیں ، بلکہ محض اظہار علم مراد ہے تو اب خواہ اس شخص میں کتنے تغیرات آویں وہ ضرور اس بتائے ہوئے کام کو کرے گا۔ورنہ خدا کا علم از لی غلط جاتا ہے ، جو ناممکن ہے لیکن اگر کسی مہم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم تیرے فلاں دشمن کو جو تیری دشمنی میں کمر بستہ ہے ذلت کے عذاب میں مبتلا کریں گے تو ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی صفت علیم کے ماتحت نہیں۔بلکہ صفت قدیر کے ماتحت سمجھی جاوے گی۔لہذا اگر وہ دشمن جس کے متعلق ذلت کی پیشگوئی ہے اپنے اندر تغیر پیدا کرتا ہے تو خوب سوچ لو کہ خدا کی وہی صفت قدیر جو پہلے اس دشمن کی ذلت کی پیشگوئی کی محرک ہوئی تھی اب اسے ذلت سے بچائے جانے کا موجب ہوگی۔یعنی جس طرح ایسے شخص کے تغیر نہ کرنے کی صورت میں اس کی ذلت خدا کی قدرت کے اظہار کا موجب تھی۔اب اس کا ذلت سے بچایا جانا قدرت الہی کے اظہار کا موجب ہوگا۔بلکہ اگر باوجود تغیر کے اسے ذلت کا عذاب آدبائ تو صفت قدرت جس کا اظہار مقصود تھا مشتبہ ہو کر پیشگوئی کی اصل غرض ہی فوت ہو جائے گی کیونکہ قدرت کاملہ اس کا نام نہیں کہ جب انجن چل گیا تو پھر جو اپنا برگا نہ سامنے آیا اُسے پیس ڈالا۔بلکہ قدرت کاملہ کے یہ معنی ہیں کہ جب کوئی عذاب کا مستحق ہو تو اسے عذاب دے سکے اور کوئی چیز اسے عذاب سے بچا نہ سکے۔اور جب کوئی رحمت کا مستحق بنے تو اس پر رحمت نازل کر سکے اور پھر کوئی چیز بھی اسے عذاب نہ دے سکے یعنی قدیر وہ ہے جس کی قدرت کا اظہار موقعہ کے مطابق ہو ورنہ اگر موقعہ کے مطابق قدرت کا اظہار نہ ہو تو وہ