سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 173
سیرت المہدی 173 حصہ اوّل قدیر نہیں بلکہ یا تو مشین کا ایک پہیہ ہے اور یا ظلم و ستم کا مجسمہ۔تاریخی طور پر علم از لی اور قدرت کاملہ والی پیشگوئیوں کی مثال چاہو تو یوں سمجھو کہ حضرت فاطمہ کی وفات کی پیشگوئی جو آنحضرت ﷺ نے اپنی مرض الموت میں فرمائی علم ازلی کے ماتحت تھی اور یونس نبی نے اپنی قوم پر عذاب آنے کی جو پیشگوئی کی وہ قدرت کاملہ کے اظہار کیلئے تھی۔یہ باتیں ہمارے نزدیک بینات میں داخل ہیں۔پس مخالفوں کے استہزاء سے ہم ان بینات کوکس طرح چھوڑ سکتے ہیں۔عوام کو دھوکا دے لینا اور بات ہے اور حق کی پیروی اور بات۔اس جگہ ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خدا کو اپنی صفت علیم کے ماتحت یہ علم ہوتا ہے کہ صفت قدیر کے ماتحت جوفلاں پیشگوئی کی گئی ہے اس میں شخص موعود لہ کے فلاں تغیر کی وجہ سے اس اس رنگ کا تخلف ہو جائے گا تو پھر خدا وہی انتہائی بات ہی کیوں نہیں بتا دیتا جو بالآخر وقوع میں آنی ہوتی ہے یعنی وہ جو بالآخر واقعی ہونا ہوتا ہے وہی لوگوں کو بتا دیا جاوے تا لوگ ٹھوکر سے بیچ جاویں۔اس شبہ کا یہ جواب ہے کہ اگر ایسا کیا جاوے تو پھر اس کے یہ معنے ہونگے کہ تمام پیشگوئیاں صفت علیم کے ماتحت ہوا کریں۔صفت قدیر کے ماتحت کوئی بھی پیشگوئی نہ ہو۔کیونکہ جب لازمی طور پر آخری بات بتائی جاوے گی تو لا محالہ وہ پیشگوئی صفت قدیر سے نکل کر صفت علیم کے ماتحت آجائے گی۔حالانکہ ترقی عرفان وایمان کیلئے ہر دو قسم کی پیشگوئیوں کا ہونا ضروری ہے بلکہ اظہار قدرت والی پیشگوئیاں جہاں ایک طرف اپنے اند را بتلا کا پہلو رکھتی ہیں وہاں ایمان و عرفان کو ترقی دینے والا مادہ بھی ان میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے خدا کی مصلحت نے چاہا کہ خدا کے نبیوں کے منہ سے ہر دو قسم کی پیشگوئیاں ظاہر ہوں۔اس جگہ ایک بات کا یا درکھنا نہایت ضروری ہے کہ خاکسار نے جو یہ لکھا ہے کہ بعض پیشگوئیاں علم ازلی کے اظہار کیلئے ہوتی ہیں اور بعض قدرت نمائی کیلئے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ قدرت نمائی والی پیشگوئیاں علم غیب کے عصر سے خالی ہوتی ہیں۔کیونکہ کوئی پیشگوئی خواہ وہ کسی غرض سے کی گئی ہو علم غیب کے عنصر سے خالی نہیں ہوتی۔اور دراصل پیشگوئی کا لفظ ہی علم غیب کو ظاہر کر رہا ہے۔پس قدرت نمائی والی پیشگوئی سے مراد یہ ہے کہ عاقبتہ الامور والے علم کا اظہار اس میں مقصود نہیں ہوتا ورنہ درمیانی حالات اور ان