سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 171
سیرت المہدی 171 حصہ اوّل زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہیں انتظام حکومت بہتر ہوتا چلا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ خداوند تعالیٰ کی یہ صفات اپنے انتہائی کمال میں ہیں یعنی خدا کا علم بھی کامل ہے اور قدرت بھی کامل۔یعنی نہ تو کوئی علم کی بات ہے جو اس سے پوشیدہ ہے اور نہ کوئی قدرت کا امر ہے جو اس کی طاقت سے باہر ہے۔یہ وہ دوستون ہیں جن کے اوپر اس کا عرش قائم ہے۔پس جب وہ اپنا کوئی رسول بھیجتا ہے تو اپنی تجاہی کیلئے اسکے ذریعہ اپنی ان صفات کی دو نہریں جاری کر دیتا ہے تا دنیا پر ظاہر کرے کہ سب حکومت میرے ہاتھ میں ہے اور میں نے ہی اسے رسول بنا کر بھیجا ہے۔بعض آیات وہ اپنے رسول کے ذریعہ ایسی ظاہر کرتا ہے جن سے اسے اپنے علم از لی کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور بعض آیات ایسی ظاہر کرتا ہے جن سے اسے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور وہ ایسا نہیں کرتا کہ صرف ایک قسم کے نشان ظاہر کرے کیونکہ حکومت کیلئے ہر دوصفات کا ہونا ضروری ہے۔علم خواہ کتنا کامل ہو مگر بغیر قدرت کے ناقص ہے اور قدرت خواہ کتنی کامل ہوگر بغیر علم کے ناقص ہے پس کمال تصرف کا اظہار نہیں ہو سکتا جب تک دونو صفات کا اظہار نہ ہو۔اس لئے نبیوں کی پیشگوئیاں بھی جو آیات اللہ میں داخل ہیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔اوّل وہ جو خدا کی صفت علیم کے ماتحت ہوتی ہیں یعنی جن سے خدا کو اپنے علم ازلی کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔دوسری وہ جو خدا کی صفت قدیر کے ماتحت ہوتی ہیں یعنی جن سے خدا کو اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہر قسم کی پیشگوئیوں کے الگ الگ حالات ہونگے جن سے وہ پہچانی جائیں گی اور ان کی صداقت کے پر کھنے کیلئے الگ الگ معیار ہونگے اور یہ ہماری سخت نادانی ہوگی کہ ان دونوں قسموں کو مخلوط کر کے ان پر ایک ہی حکم لگا ویں اور ایک ہی قسم کے معیاروں سے دونوں کو پرکھیں۔بلکہ علم والی پیشگوئیوں کو علم کے معیار سے پرکھنا ہوگا کیونکہ وہ اظہار علم کے راستہ پر چلیں گی اور قدرت والی پیشگوئیوں کو قدرت کے معیار سے پر کھنا ہوگا کیونکہ وہ قدرت نمائی کے راستہ پر چلیں گی اور ممکن نہیں کہ وہ اپنا راستہ بدلیں۔پس جب ہمارے سامنے کوئی پیشگوئی آئے تو سب سے پہلے ہمیں اس کے حالات پر غور کر کے اس کی قسم کی تشخیص کرنی ہوگی۔اور پھر اس تشخیص کے بعد جس قسم میں سے وہ ثابت ہو اس کے معیاروں سے اس کی صداقت کو پرکھنا ہو گا۔ہمارے مخالفوں کو یہ سخت دھوکا لگا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی سب پیشگوئیوں کو خدا کے علم ازلی کے ماتحت سمجھتے ہیں اور اسی معیار سے انہیں ناپتے ہیں۔کیونکہ