سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 165

سیرت المہدی 165 حصہ اوّل ہے کہ غوث گڑھ کا تمام گاؤں میاں عبداللہ صاحب کی تبلیغ سے احمدی ہو چکا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تمام دیہات ریاست پٹیالہ میں واقع ہیں۔165 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔حضرت صاحب اسکو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے زنجیر نہیں لگاتے تھے۔اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک ہند سے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہند سے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔166 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے بیان فرمایا کہ قرآن شریف کی جو آیات بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہیں اور ان پر بہت اعتراض ہوتے ہیں دراصل ان کے نیچے بڑے بڑے معارف اور حقائق کے خزانے ہوتے ہیں اور پھر مثال دے کر فرمایا کہ ان کی ایسی ہی صورت ہے جیسے خزانہ کی ہوتی ہے جس پر سنگین پہرہ ہوتا ہے اور جو بڑے مضبوط کمرے میں رکھا جاتا ہے جس کی دیواریں بہت موٹی ہوتی ہیں اور دروازے بھی بڑے موٹے اور لوہے سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور بڑے بڑے موٹے اور مضبوط قفل اس پر لگے ہوتے ہیں۔اور اسکے اندر بھی مضبوط آہنی صندوق ہوتے ہیں جن میں خزانہ رکھا جاتا ہے اور پھر یہ صندوق بھی خزانہ کے اندراندھیری کوٹھڑیوں اور تہ خانوں میں رکھے جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہر شخص وہاں تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس سے آگاہ ہوسکتا ہے بمقابلہ نشست گاہ ہونے کے جو کھلے کمرے ہوتے ہیں اور دروازوں پر بھی عموماً شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے باہر والا شخص بھی اندر نظر ڈال سکتا ہے اور جواندر آنا چاہے بآسانی آسکتا ہے۔167 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب