سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 164 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 164

سیرت المہدی 164 حصہ اوّل کہ اگر حضور یہاں تشریف لا سکیں تو مہاراج حضور کی ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ جواب لکھ دو بِئْسَ الْفَقِيرُ عَلَى بَابِ الْأَمِيرِ - 163 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے میرے خاتمہ اور خاتمہ تک کے سب حالات بتا دیئے ہوئے ہیں۔جو مجھ پر آنے والے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر اسی کے مطابق حالات آرہے ہیں۔164 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں میں نو گاؤں میں پٹواری ہوتا تھا۔اور میری پچپن سالانہ تنخواہ تھی مگر میں نے ایک اور پٹواری کے ساتھ مل کر جو تحصیل پائل میں ہوتا تھا اپنا تبادلہ تحصیل پائل میں کروالیا۔لیکن وہاں جانے کے بعد میرا دل نہیں لگا اور میں بہت گھبرایا کیونکہ وہ ہندو جاٹوں کا گاؤں تھا اور وہاں کوئی مسجد نہ تھی اور نو گاؤں میں جس کو میں چھوڑ آیا تھا مسجد تھی۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ یہاں میرا دل بالکل نہیں لگتا۔حضور دعا فرما دیں کہ میں پھر نو گاؤں میں چلا جاؤں اور بڑی بیقراری سے عرض کیا۔حضور نے فرمایا جلدی نہیں کرنی چاہیے۔اپنے وقت پر یہ خود بخود ہو جائیگا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میرا تبادلہ غوث گڑھ میں ہو گیا جہاں میرا اتنا دل لگا کہ نو گاؤں کی خواہش دل سے نکل گئی اور میں نے حضرت کے فرمان کی یہ تاویل کر لی کہ چونکہ غوث گڑھ بھی مسلمانوں کا گاؤں ہے اور اس میں مسجد ہے اور یہاں میرا دل بھی خوب لگ گیا ہے اس لئے حضرت کے فرمان کے یہی معنی ہونگے جو پورے ہو گئے مگر کچھ عرصہ بعد نو گاؤں کا حلقہ خالی ہوا اور تحصیل دار نے میری ترقی کی سفارش کی اور لکھا کہ ترقی کی یہ صورت ہے کہ مجھے علاوہ غوث گڑھ کے نو گاؤں کا حلقہ بھی جو وہ بھی پچپن سالانہ کا تھادید یا جاوے اور دونوں حلقوں کی تنخواہ یعنی ایک سو دس مجھے دی جاوے۔یہ سفارش مہاراج سے منظور ہوگئی اور اس طرح میرے پاس غوث گڑھ اور نو گاؤں دونوں حلقے آگئے اور ترقی بھی ہوگئی۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص اقتداری فعل تھا ور نہ نو گاؤں غوث گڑھ سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر ہے اور درمیان میں کئی غیر حلقے ہیں۔خاکسار عرض کرتا