سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 166 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 166

سیرت المہدی 166 حصہ اوّل جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کی تازہ ٹنڈ یا تازہ آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے۔اور سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا چنانچہ ہوشیار پور جاتے ہوئے ہم مُرغ پکوا کر ساتھ لے گئے تھے۔مولی کی چٹنی اور گوشت میں مونگرے بھی آپ کو پسند تھے۔گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں۔چپاتی خوب سکی ہوئی جو سکنے سے سخت ہو جاتی ہے پسند تھی۔گوشت کا پتلا شور بہ بھی پسند کرتے تھے جو بہت دیر تک پکتا رہا ہو۔حتی کہ اس کی بوٹیاں خوب گل کر شور بہ میںاس کا عرق پہنچ جاوے۔سمجھین بھی پسند تھی۔میاں جان محمد مرحوم آپکے واسطے منجمین تیار کیا کرتا تھا۔نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ یہ بھی فرمایا تھا کہ گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہیے جوشخص چالیس دن لگا تار کثرت کے ساتھ صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے اسکا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔دال ،سبزی تر کاری کے ساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہیے بھیڑ کا گوشت ناپسند فرماتے تھے۔میٹھے چاول گرد یعنی قند سیاہ میں پکے ہوئے پسند فرماتے تھے۔ابتدا میں چائے میں دیسی شکر ( جو گڑ کی طرح ہوتی ہے ) ڈال کر استعمال فرماتے تھے۔شور بہ کے متعلق فرماتے تھے کہ گاڑھا کیچڑ جیسا ہم کو پسند نہیں۔ایسا پتلا کرنا چاہیے کہ ایک آنہ کا گوشت آٹھ آدمی کھا ئیں۔اس وقت ایک آنہ کا سیر خام گوشت آتا تھا۔168 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کوئی شخص حضرت صاحب کیلئے ایک تسبیح تحفہ لایا۔وہ تسبیح آپ نے مجھے دے دی اور فرمایا لو اس پر درود شریف پڑھا کرو۔وہ تسبیح بہت خوبصورت تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تسبیح کے استعمال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر پسند نہیں فرماتے تھے۔169 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ قیامت کو ایک شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اور اللہ اس سے دریافت کرے گا کہ