سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 11
سیرت المہدی 11 حصہ اوّل سو جاؤ۔میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اسلئے میں نے چار پائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اُٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چار پائی پر گر گئے اور آپ کا سر چار پائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگر گوں ہوگئی۔اس پر میں نے گھبرا کر کہا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے تو آپ نے فرمایا ” یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا‘ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کیا آپ سمجھ گئی تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ”ہاں والدہ صاحبہ نے یہ بھی فرمایا کہ جب حالت خراب ہوئی اور ضعف بہت ہوگیا تو میں نے کہا مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب) کو بلالیں؟ آپ نے فرمایا بلالو نیز فرمای محمود کو جگا لو۔پھر میں نے پوچھا محمد علی خان یعنی نواب صاحب کو بلالوں؟ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ حضرت صاحب نے اس کا کچھ جواب دیا، یا نہیں اور دیا تو کیا دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مرض موت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سخت کرب تھا اور نہایت درجہ بے چینی اور گھبراہٹ اور تکلیف کی حالت تھی اور ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا بھی بوقت وفات قریباً ایسا ہی حال تھا۔یہ بات ناواقف لوگوں کے لئے موجب تعجب ہو گی کیونکہ دوسری طرف وہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صوفیا اور اولیاء کی وفات نہایت اطمینان اور سکون کی حالت میں ہوتی ہے۔سو دراصل بات یہ ہے کہ نبی جب فوت ہونے لگتا ہے تو اپنی امت کے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں اس کے سامنے ہوتی ہیں اور ان کے مستقبل کا فکر مزید برآں اسکے دامن گیر ہوتا ہے۔تمام دنیا سے بڑھ کر اس بات کو نبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے گذر کر انسان نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے پس موت کی آمد جہاں اس لحاظ سے اس کو مسرور کرتی ہے کہ وصال محبوب کا وقت قریب آن پہنچا ہے وہاں اس کی عظیم الشان ذمہ داریوں کا احساس اور اپنی امت کے متعلق آئندہ کا فکر سے غیر معمولی کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں مگر صوفیا اور اولیاء ان فکروں سے آزاد ہوتے ہیں۔ان پر صرف ان