سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 12

ت المهدی 12 حصہ اوّل کے نفس کا بار ہوتا ہے مگر نبیوں پر ہزاروں لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بار۔پس فرق ظاہر ہے ( اس روایت میں حضرت والدہ صاحبہ نے جو یہ بیان کیا ہے کہ ان کی گھبراہٹ کے اظہار پر حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایا کہ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔اس کے متعلق میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے جس پر انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب کی یہ مرا تھی کہ جیسا کہ میں کہا کرتا تھا کہ میری وفات کا وقت قریب ہے۔سواب یہ وہی موعود وقت آ گیا ہے اور والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ان الفاظ میں گویا حضرت صاحب نے مجھے ایک رنگ میں تسلی دی تھی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ وہی مقدر وقت ہے جس کے متعلق میں خدا سے علم پا کر ذکر کیا کرتا تھا اور جس طرح خدا کا یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔اسی طرح خدا کے دوسرے وعدے بھی جو میرے بعد خدائی نصرت وغیرہ کے متعلق ہیں۔پورے ہوں گے اور خدا تم سب کا خود کفیل ہوگا۔نیز حضرت والدہ صاحبہ نے فرمایا۔کہ حضرت صاحب کو اسہال کی شکایت اکثر ہو جایا کرتی تھی۔جس سے بعض اوقات بہت کمزوری ہو جاتی تھی۔اور آپ اسی بیماری سے فوت ہوئے۔) 13 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت لکھ رہے تھے ایک دفعہ جب آپ شریف ( یعنی میرے چھوٹے بھائی عزیزم مرزا شریف احمد) کے مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے۔آپ نے مجھ سے کہا کہ مولوی محمد علی سے ایک انگریز نے دریافت کیا تھا کہ جس طرح بڑے آدمی اپنا جانشین مقرر کیا کرتے ہیں مرزا صاحب نے بھی کوئی جانشین مقرر کیا ہے یا نہیں؟ اس کے بعد آپ فرمانے لگے تمہارا کیا خیال ہے۔کیا میں محمود (خلیفہ امسیح ثانی) کو لکھ دوں یا فرمایا مقرر کر دوں؟ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں میں نے کہا کہ جس طرح آپ مناسب سمجھیں کریں۔14 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جن کو دنیوی شان و شوکت کا خیال ہے کہ محکمے ہوں، دفاتر ہوں، بڑی بڑی عمارتیں ہوں وغیرہ وغیرہ۔دوسرے وہ ہیں جو کسی بڑے آدمی مثلاً