سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 10 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 10

سیرت المہ 10 حصہ اوّل یا نہیں۔اس وقت آپ کی حالت سخت کرب اور گھبراہٹ کی تھی۔غالباً آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے ڈاکٹر نے پوچھا کہ حضور کو خاص طور پر کیا تکلیف محسوس ہوتی ہے۔مگر آپ جواب نہ دے سکتے اس لئے کاغذ قلم دوات منگوائی گئی اور آپ نے بائیں ہاتھ پر سہارا لے کر بستر سے کچھ اُٹھ کر لکھنا چاہا مگر بمشکل دو چار الفاظ لکھ سکے اور پھر بوجہ ضعف کے کاغذ کے اوپر قلم گھٹتا ہوا چلا گیا اور آپ پھر لیٹ گئے۔یہ آخری تحریر جس میں غالباً زبان کی تکلیف کا اظہار تھا اور کچھ حصہ پڑھا نہیں جاتا تھا جناب والدہ صاحبہ کو دے دی گئی۔نو بجے کے بعد حضرت صاحب کی حالت زیادہ نازک ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد آپ کو غرغرہ شروع ہو گیا۔غرغرہ میں کوئی آواز وغیرہ نہیں تھی بلکہ صرف سانس لمبا لمبا اور بھی کھیچ کر آتا تھا خاکسار اس وقت آپ کے سرہانے کھڑا تھا۔یہ حالت دیکھ کر والدہ صاحبہ کو جو اس وقت ساتھ والے کمرے میں تھیں اطلاع دی گئی وہ مع چند گھر کی مستورات کے آپ کی چار پائی کے پاس آکر زمین پر بیٹھ گئیں۔اس وقت ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب لاہوری نے آپ کی چھاتی میں پستان کے پاس انجکشن یعنی دوائی کی پچکاری کی جس سے وہ جگہ کچھ ابھر آئی مگر کچھ افاقہ محسوس نہ ہوا بلکہ بعض لوگوں نے بُرا منایا کہ اس حالت میں آپ کو کیوں یہ تکلیف دی گئی ہے۔تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا حتی کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔الـلـهـم صــل عـلـيـه و على مطاعه محمد و بارک وسلم۔خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی اور حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے۔اور میں بھی سوگئی لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چار پائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپکے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب