سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 160 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 160

سیرت المہدی 160 حصہ اوّل علاج بھی فائدہ نہیں دیتا بلکہ ایک بڑا لمبا با قاعدہ علاج ان کے لئے ضروری ہوتا ہے۔مقدم الذکر کی مثال یوں مجھنی چاہیے جیسے ایک بڑا پھوڑا ہو جس میں پیپ پڑی ہوئی ہو اور بیمار اس کے درد سے بے تاب ہومگر ڈاکٹر نے چیرہ دیا اور پیپ نکل گئی درد دور ہو گئی اور بیمار دو چار دن کی مرہم پٹی میں بھلا چنگا ہو کر چلنے پھرنے لگ گیا۔اور مؤخر الذکر کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص کوسل کی بیماری ہو۔یہ بیمار پھوڑے کے بیمار کی طرح کرب اور دکھ میں مبتلا نہیں بلکہ اندر ہی اندر گھلتا چلا جاتا ہے اور اس سے مقدم الذکر بیمار کی طرح کوئی فوری علاج بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔بلکہ ایک لمبا با قاعدہ علاج کا کورس درکار ہوتا ہے۔پس چونکہ اس زمانہ کی اخلاقی اور روحانی بیماریاں مسل کی بیماری کے مشابہ ہیں اس لئے اس زمانہ میں علاج کے نتیجے بھی فوراً ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وقت چاہتے ہیں اور یہ یا درکھنا چاہئیے کہ خدا تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے متعلق كَزَرُعٍ اَخْرَجَ شَطْأَهُ فرمایا ہے تو اس سے صرف ان کی تعدادی ترقی کی حالت بتانا مقصود نہیں۔بلکہ ہر قسم کی ترقی کی کیفیت بتانا مقصود ہے۔واللہ اعلم۔پس اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف جلد قدم نہیں اُٹھانا چاہیے۔یہ تیرہ باتیں ہیں جو عموماً صحابہ حضرت مسیح موعود کی حقیقی قدر پہچانی جانے کے رستہ میں روک ہوتی ہیں۔میں نے ان کو صرف مختصر بیان کیا ہے اور بعض کو تو دیدہ دانستہ نہایت ہی مختصر رکھا ہے اور خدا گواہ ہے کہ میں اس نازک مضمون میں ہر گز نہ پڑتا اور یہ تو غالبا اس کا ایسا موقع بھی نہ تھا مگر میں نے دیکھا ہے کہ یہ باتیں لوگوں کو دھو کے میں ڈال رہی ہیں اور اس دھو کے کا اثر وسیع ہورہا ہے۔اس لئے میں خاموش نہیں رہ سکا۔ہاں یہ بات نوٹ کرنی ضروری ہے کہ جس طرح ہم بفضلہ تعالی آنحضرت ﷺ کوسب اولین و آخرین سے افضل جانتے ہیں اسی طرح آپ کی جماعت کو بھی تمام جماعتوں سے افضل مانتے ہیں۔اللـهـم صـل على محمد وعلى ال محمد و بارک وسلم۔158 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن رات اس کی تیماداری میں مصروف رہتے تھے اور بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ اس کے علاج میں مشغول رہتے تھے اور چونکہ حضرت صاحب کو اس سے بہت محبت تھی اس لئے لوگوں کا