سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 159 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 159

سیرت ت المهدی 159 حصہ اوّل پس جب خداوند عالمیان جو عالم الکل ہے اور جس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔حضرت مسیح موعود کی جماعت کو آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں داخل کرتا ہے اور ان کی تعریف فرماتا ہے تو زید و بکر کو اس میں چہ میگوئی کرنے کا کیا حق ہے۔اللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ تیرہویں وجہ یہ ہے جسے لوگ عموماً نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جماعت کی ترقی کے لئے ایک خاص طریق مقرر کر رکھا ہے اور قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کی ترقی آہستہ آہستہ مقدر ہے۔جیسا کہ فرمایا کہ گزَرُعٍ اَخْرَجَ شَطْأَهُ الاية (الفتح: ۳۰) یعنی حضرت مسیح موعود کی جماعت کی ترقی اس پودے کی طرح ہے جو شروع شروع میں زمین سے اپنی کمز ور کمزور پنیاں نکالتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنی کتاب اعجاز امسیح صفحہ ۱۲۳ پر تحریر فرماتے ہیں کہ فاشار موسى بقوله اشداء على الكفار الى الصحابة ادركوا صحبة نبينا المختار واشار عيسى بقوله كزرع اخرج شطأه الى قوم آخرين منهم و امامهم المسيح بل ذكر اسمه احمد بالتصريح - یعنی موسیٰ علیہ السلام نے اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کے الفاظ کہہ کر صحابہ کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ہمارے آنحضرت ﷺ کی صحبت پائی اور عیسی علیہ السلام نے اپنے قول گزَرع اَخْرَجَ شَطْأَهُ سے اس قوم کی طرف اشارہ کیا جو اخَرِينَ مِنْهُمُ ہے۔اور نیز ان کے امام مسیح موعود کی طرف اشارہ کیا بلکہ اس کا تو نام احمد بھی صاف صاف بتلا دیا۔“ اس سے پتہ لگا کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کی ترقی انقلابی رنگ میں مقدر نہیں بلکہ تدریجی رنگ میں مقدر ہے۔اس کی یہ وجہ ہے کہ جس طرح جسمانی بیماریاں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں اسی طرح اخلاقی اور روحانی بیماریاں بھی مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔چنانچہ بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو سخت تکلیف دہ ہوتی ہیں اور بیمار کو نہایت بے تاب کر دیتی ہیں۔مگر مناسب علاج سے وہ جلد ہی دور بھی ہو جاتی ہیں۔اور وہ بیمار جواس بیماری کی وجہ سے سخت مضطر بانہ کرب میں مبتلا تھا جلد بھلا چنگا ہوکر چلنے پھرنے لگ جاتا ہے۔لیکن اس کے مقابل میں بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو ایک روگ کے طور پر انسان کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہیں اور گو بیماران سے وہ مضطربانہ دکھ نہیں اٹھاتا مگر اندر ہی اندر تحلیل ہوتا چلا جاتا ہے۔اور ان میں کوئی فوری