سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 161

سیرت المہدی 161 حصہ اوّل خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ وہ فوت ہو گیا تو حضرت صاحب کو بڑا سخت صدمہ گزرے گا۔لیکن جب وہ صبح کے وقت فوت ہوا تو فوراً حضرت صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ بیرونی احباب کو خطوط لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک فوت ہو گیا ہے اور ہم کو اللہ کی قضا پر راضی ہونا چاہئیے۔اور مجھے بعض الہاموں میں بھی بتایا گیا تھا کہ یا یہ لڑکا بہت خدا رسیدہ ہوگا اور یا بچپن میں فوت ہو جائے گا۔سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہونا چاہیے کہ خدا کا کلام پورا ہوا۔اور حضرت خلیفہ اسیح ثانی بیان کرتے ہیں کہ جس وقت مبارک احمد فوت ہونے لگا تو وہ سویا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اس کی نبض دیکھی تو غیر معمولی کمزوری محسوس کی جس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور نبض میں بہت کمزوری ہے۔کچھ کستوری دیں حضرت صاحب جلدی سے صندوق میں سے کستوری نکالنے لگے مگر مولوی صاحب نے پھر کہا کہ حضور نبض بہت ہی کمزور ہو گئی ہے۔حضرت صاحب نے کستوری نکالنے میں اور جلدی کی مگر پھر مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور نبض نہایت ہی کمزور ہے۔حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ اس وقت دراصل مبارک احمد فوت ہو چکا تھا۔مگر حضرت مولوی صاحب حضرت مسیح موعود" کی تکلیف کا خیال کر کے یہ کلمہ زبان پر نہ لا سکتے تھے۔مگر حضرت صاحب سمجھ گئے اور خود آکر نبض پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ مبارک احمد فوت ہو چکا ہے۔اس پر حضرت صاحب نے انا لله و انا الیه راجعون کہا اور بڑے اطمینان کے ساتھ بستہ کھولا اور مبارک احمد کی وفات کے متعلق دوستوں کو خطوط لکھنے بیٹھ گئے اور مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب مبارک احمد کو دفن کرنے کے لئے گئے تو ابھی قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی اس لئے حضرت صاحب قبر سے کچھ فاصلے پر باغ میں بیٹھ گئے۔اصحاب بھی ارد گرد بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر خاموشی کے بعد حضرت صاحب نے مولوی صاحب خلیفہ اول کو مخاطب کر کے فرمایا۔مولوی صاحب ایسے خوشی کے دن بھی انسان کو بہت کم میسر آتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستہ میں انسان کی ترقی کے لئے ایک قانون شریعت رکھا ہے اور ایک قانون قضاء وقدر۔قانون شریعت کے نفاذ کو خدا نے بندے کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔پس بندہ اس میں اپنے لئے کئی قسم کے آرام اور سہولتیں پیدا کر لیتا ہے۔وضو سے تکلیف نظر آتی ہے تو تیم کر لیتا ہے۔نماز کھڑے ہو کر پڑھنے میں تکلیف محسوس کرتا ہے تو بیٹھ کر یا اگر بیٹھنے میں بھی تکلیف ہو تو لیٹ کر پڑھ لیتا ہے۔روزہ میں کوئی بیماری محسوس کرتا ہے تو کسی دوسرے وقت پر ٹال دیتا ہے اسی طرح