سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 158 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 158

سیرت المہدی 158 حصہ اوّل ہے۔ایمانی ترقی کے لئے بیم و رجا کی درمیانی حالت ہی مناسب رہتی ہے۔بارہویں وجہ یہ ہے کہ لوگ صحابہ کے متعلق تو یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ نے اپنے کلام پاک میں ان کی تعریف فرمائی ہے۔مگر حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے متعلق ان کو بزعم خود کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی۔مگر یہ بھی ایک دھوکہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود کے الہامات کا مطالعہ کیا جاوے تو ان میں بھی آپ کے صحابہ کی بہت تعریف پائی جاتی ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ کسی الگ تعریف کی ضرورت بھی نہیں ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں صحابہ کی تعریف پائی جاتی ہے وہاں بنص صریح " وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: ٤) یہ بھی تو بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں شامل ہیں۔اور انہیں کا ایک حصہ ہیں۔اور اس آیت کی تفسیر خود حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں متعدد جگہ فرمائی ہے۔چنانچہ تحفہ گولڑویہ صفحه ۱۵۲ پر تحریر فرماتے ہیں کہ ” ہمارے نبی ﷺ کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة): (۴) ہے۔تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفصیل میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔اور صحابہ رضی اللہ عنھم کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت ﷺ سے فیض اور ہدایت پائیں گے۔پس جب کہ یہ امرنص صریح قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہو گا۔تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کا ایک اور بعث ماننا پڑا۔جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا۔“ پھر حقیقۃ الوحی تمہ صفحہ ۶۷ پر فرماتے ہیں " وَاخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں۔اور اس سے تعلیم وتربیت پاویں پس صلى الله اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہوگا۔اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت ﷺ کے اصحاب کہلائیں گے۔اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنھم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔“