سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 157
سیرت المہدی 157 حصہ اوّل بلکہ آپ کی وفات کے بعد احمدی ہونے والے بھی ان کے ساتھ مخلوط ہیں۔اندریں حالات حضرت مسیح موعودؓ کے صحابہ کے متعلق جب تک ان کا الگ علم نہ ہو کس طرح کوئی رائے لگائی جاسکتی ہے یا موجودہ جماعت کی عام حالات سے صحابہ مسیح موعود کے متعلق کس طرح استدلال ہو سکتا ہے۔ہاں جب تاریخی رنگ میں حالات جمع ہوں گے اور صحابہ مسیح موعود کی جماعت ممتاز نظر آئے گی تو پھر حالت کا اندازہ ہو سکے گا۔گیارہویں وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ اس واسطے جماعت احمدیہ کے متعلق بدظنی کے مرتکب ہو جاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے بعض اوقات جماعت کی کمزوریوں کا اظہار کیا ہے۔اور جماعت کو اس کی حالت پر زجر و توبیخ کی ہے مگر یہ بھی ایک دھوکہ ہے۔کیونکہ جس طرح وعظ کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ گذشتہ لوگوں کے خاص خاص کارنامے چن کر مؤثر پیرا یہ میں لوگوں کو سنائے تا ان کو نیکی کی تحریک ہو۔اسی طرح اس کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبوں کی کمزوریوں کو کھول کھول کر بیان کرے تا ان کو اپنی کمزوری کا احساس ہو اور وہ ترقی کی کوشش کریں۔واعظ عموماً اپنے مخاطبین کی خوبیوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ کمزوریوں کو لیتا ہے اور ان کو بھی ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ابھی ان کی حالت بالکل نا قابل اطمینان ہے۔تاوہ اپنی اصلاح کی بڑھ چڑھ کر کوشش کریں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خط عبدالحکیم خان مرتد کو لکھا اس میں آپ نے اس نقطہ کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کیلئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سنا تا مگر دل میں خوش ہوں۔“ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ عام طور پر آنحضرت ﷺ کا بھی یہی طریق تھا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت خلیفہ اول ، حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنھما یا بعض دیگر بزرگان سلسلہ کے بعض بیانوں سے جماعت کے متعلق کوئی اس رنگ میں استدلال نہیں ہو سکتا جو جماعت کی شان کے منافی ہو۔ہاں بعض بزرگوں کا میلان طبع جو اس طرف ہے کہ وہ ہمیشہ صرف کمزور پہلو پر ہی زور دیتے ہیں اور وہ بھی ضرورت سے زیادہ اور ا مناسب طریق پر۔یہ بھی خاکسار کی رائے میں درست طریق نہیں کیونکہ اس طرح جماعت اپنی نظروں میں آپ ذلیل ہو جاتی ہے اور اس کی ہمتیں پست ہو جاتی ہیں۔پس ان معاملات میں حکیمانہ طریق پر اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود کا طریق تھا۔یا اب حضرت خلیفہ ثانی کا طریق