سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 156 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 156

سیرت المہدی 156 حصہ اوّل میں مسلمان کہلانے والوں میں اگر ہم کو کوئی برے نمونے نظر آویں تو ہم ان کو منافق کہہ کر صحابہ کو ان سے الگ کرلیں لیکن احمدی کہلانے والوں میں سے جو لوگ احمدیت کی تعلیم کے خلاف نمونہ رکھتے ہیں اور اپنی روش پر عملاً مصر ہیں۔ان کو ہم منافق نہ سمجھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شمار کریں۔اور اس طرح ظلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو بدنام کریں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص سے بھی کمزوری سرزد ہوتی ہے وہ منافق ہے۔حاشا و کلا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب جماعت میں منافق بھی موجود ہیں تو ہر اس شخص کو جس کا طریق احمدیت کی تعلیم کے خلاف ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے خواہ نخواہ مومنین کی جماعت میں نہ سمجھنا چاہیئے لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم اس اصول کے ماتحت افراد کے متعلق کوئی حکم لگائیں کیونکہ یہ طریق فتنہ کا موجب ہے۔مگر ہاں بحیثیت مجموعی جماعت کے متعلق رائے لگاتے ہوئے اس اصول کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔دسویں وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ تو دوسرے مسلمانوں سے صاف ممتاز نظر آرہے ہیں کیونکہ تدوین تاریخ سے ہم کو ابتدائی مسلمانوں کے متعلق یہ علم حاصل ہو چکا ہے کہ یہ صحابی ہے یا نہیں لیکن یہاں حضرت مسیح موعود کے صحابی اور غیر صحابی سب ملے جلے ہیں اور سوائے خاص خاص لوگوں کے عام طور پر یہ پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں احمدی حضرت مسیح موعود " کا صحبت یافتہ ہے یا نہیں اور اس میں دو طرح کا اشکال ہے یعنی اول تو عموماً لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں احمدی حضرت مسیح موعود کے زمانہ کا احمدی ہے یا بعد کا پھر اگر یہ پتہ بھی ہو کہ وہ آپ کے زمانہ کا احمدی ہے تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ آپ کا صحبت یافتہ ہے یا نہیں اور ظاہر ہے کہ صحابی وہی کہلا سکتا ہے جو صحبت یافتہ ہو۔ہر شخص جو نبی کے زمانہ میں ایمان لاتا ہے صحابی نہیں ہوتا چنانچہ دیکھ لو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں قریباً سارا عرب مسلمان ہو گیا تھا تو کیا سارے عرب صحابی بن گئے تھے؟ ہرگز نہیں بلکہ صحابی صرف وہی لوگ سمجھے جاتے تھے جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی صحبت اٹھائی تھی اور اگر سب کو صحابی سمجھا جاوے تو وہ رائے جو اب ہم صحابہ کے متعلق رکھتے ہیں یقیناً اس مقام پر نہیں رہ سکتی جس پر کہ وہ اب ہے۔پس صحابی صرف وہی ہے جس نے صحبت اٹھائی ہومگر یہاں نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے سب احمدی ملے جلے ہیں اور لوگوں کو ان کے درمیان کسی امتیاز کا علم نہیں