سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 140
سیرت المہدی 140 حصہ اوّل ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔150 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے اپنی کتاب حیاۃ النبی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ ملازمت سیالکوٹ کے متعلق مولوی سید میرحسن صاحب سیالکوٹی کی ایک تحریر نقل کی ہے جو میں مولوی صاحب موصوف سے براہ راست تحریری روایت لے کر درج ذیل کرتا ہوں۔مولوی صاحب موصوف سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی کے چچا ہیں اور سیالکوٹ کے ایک بڑے مشہور مولوی ہیں۔مولوی صاحب مذہباً احمدی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبع نہیں بلکہ وہ سر سید مرحوم کے خیالات کے دلدادہ ہیں۔وہ لکھتے ہیں:۔حضرت مرزا صاحب ۱۸۶۴ء میں تقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔چونکہ آپ عزلت پسند اور پارسا اور فضول ولغو سے مجتنب اور محترز تھے۔اس واسطے عام لوگوں کی ملاقات جوا کثر تضیع اوقات کا باعث ہوتی ہے۔آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا ڈ پٹی مٹھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسٹنٹ تھے ان کے بڑے رفیق تھے۔اور چونکہ بٹالہ میں مرزا صاحب اور لالہ صاحب آپس میں تعارف رکھتے تھے اس لئے سیالکوٹ میں بھی ان سے اتحاد کامل رہا۔پس سب سے کامل دوست مرزا صاحب کے اگر اس شہر میں تھے تو لالہ صاحب ہی تھے۔اور چونکہ لالہ صاحب طبع سلیم اور لیاقت زبان فارسی اور ذہن رسا ر کھتے تھے اس سبب سے بھی مرزا صاحب کو علم دوست ہونے کے باعث ان سے بہت محبت تھی۔مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچہری والے آگاہ تھے مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے ( جن کا نام پر کسن تھا۔اور پھر وہ آخر میں کمشنر راولپنڈی کی کمشنری کے ہو گئے تھے ) محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ترجمان کی ضرورت تھی۔مرزا صاحب چونکہ عربی میں کامل استعدا در کھتے تھے اور عربی زبان میں تحریر و تقریر بخوبی کر سکتے تھے۔اس واسطے مرزا صاحب کو بلا کر حکم دیا کہ جو جو بات ہم کہیں عرب صاحب سے پوچھو۔اور جو جواب وہ دیں اردو میں ہمیں کا لکھواتے جاؤ۔مرزا صاحب نے اس کام کو کما حقہ ادا کیا۔اور آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔