سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 139 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 139

سیرت المہدی 139 حصہ اوّل سپید پڑ گیا تھا اور وہ ایک لفظ بھی منہ سے نہیں بول سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بڑھامل قادیان کے آریوں کا ایک ممتاز رکن ہے اور اسلام اور اس سلسلہ کا سخت دشمن ہے اور آج تک زندہ اور يَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمُ کا مصداق ہے۔149 بسم اللہ الحمن الرحیم۔بیان فرمایا حضرت خلیفہ مسیح ثانی نے کہ لالہ بھی مین صاحب سیالکوٹی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت اچھے تعلقات تھے حتی کہ آخری ایام میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کچھ روپے کی ضرورت ہوتی تھی تو ان سے بطور قرض منگا لیتے تھے چنانچہ وفات سے دو تین سال قبل ایک دفعہ حضرت صاحب نے لالہ بھیم سین صاحب سے چندسور و پیہ بطور قرض منگوایا تھا۔حالانکہ اپنی جماعت میں بھی روپیہ دے سکنے والے بہت موجود تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لالہ بھیم سین صاحب سے ابتداء ملازمت سیالکوٹ کے زمانہ میں حضرت صاحب کے تعلقات پیدا ہوئے اور پھر یہ رشتہ محبت آخر دم تک قائم رہا۔لالہ صاحب حضرت صاحب کے ساتھ بہت عقیدت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی روایت ہے کہ جن ایام میں جہلم کا مقدمہ دائر ہوا تھا۔لالہ بھیم سین صاحب نے حضرت صاحب کو تار دیا تھا کہ میرے لڑکے کو جو بیرسٹر ہے اجازت عنایت فرما دیں کہ وہ آپ کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرے مگر حضرت صاحب نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس لڑکے کی خدمات لالہ صاحب نے پیش کی تھیں ان کا نام لالہ کنورسین ہے جو ایک لائق بیرسٹر ہیں اور گذشتہ دنوں میں لاء کالج لاہور کے پرنسپل تھے اور آجکل کسی ریاست میں چیف حج کے معزز عہدہ پر ممتاز ہیں۔نیز حضرت خلیفہ اسیح ثانی بیان فرماتے ہیں کہ جو چھت گرنے کا واقعہ ہے اس میں بھی غالبا لالہ بھیم سین صاحب شریک تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لالہ بھیم سین صاحب موصوف امتحان مختاری کی تیاری میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ شریک تھے۔چنانچہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو کر مختار بن گئے۔مگر آپ کے لئے چونکہ پردہ غیب میں اور کام مقدر تھا اس لئے آپ کو خدا نے اس راستہ سے ہٹا دیا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ لالہ بھیم سین صاحب کی کامیابی کے متعلق بھی حضرت صاحب نے خواب دیکھا تھا کہ جتنے لوگوں نے امتحان دیا ہے ان میں سے صرف لالہ بھیم سین صاحب پاس ہوئے