سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 141
سیرت المہدی 141 حصہ اوّل اس زمانہ میں مولوی الہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محر مدارس تھے۔( اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے ) کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسٹنٹ سرجن پینشنز ہیں استاد مقرر ہوئے۔مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دوکتا ہیں انگریزی کی پڑھیں۔مرزا صاحب کو اس زمانہ میں بھی مذہبی مباحثہ کا بہت شوق تھا۔چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا۔ایک دفعہ پادری الایشہ صاحب جو دیسی عیسائی پادری تھے اور حاجی پورہ سے جانب جنوب کی کوٹھیوں میں سے ایک کوٹھی میں رہا کرتے تھے مباحثہ ہوا۔پادری صاحب نے کہا کہ عیسوی مذہب قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔مرزا صاحب نے فرمایا نجات کی تعریف کیا ہے؟ اور نجات سے آپ کیا مرا در رکھتے ہیں؟ مفصل بیان کیجئے۔پادری صاحب نے کچھ مفصل تقریر نہ کی اور مباحثہ ختم کر بیٹھے اور کہا میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا۔“ پادری بٹلر صاحب ایم۔اے سے جو بڑے فاضل اور محقق تھے۔مرزا صاحب کا مباحثہ بہت دفعہ ہوا۔یہ صاحب موضع گوہد پور کے قریب رہتے تھے۔ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ ستر تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے۔اور آدم کی شرکت سے جو گنہ گار تھا بری رہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے۔اور علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی۔جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہ گار ہوا۔پس چاہیے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے۔اس پر پادری صاحب خاموش ہو گئے۔پادری بٹلر صاحب مرزا صاحب کی بہت عزت کرتے تھے۔اور بڑے ادب سے ان سے گفتگو کیا کرتے تھے۔پادری صاحب کو مرزا صاحب سے بہت محبت تھی۔چنانچہ جب پادری صاحب ولایت جانے لگے تو مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے کچہری تشریف لائے۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے پادری صاحب سے تشریف آوری کا سبب پوچھا۔تو پادری صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزا صاحب سے ملاقات کرنے کو آیا تھا۔چونکہ میں وطن جانے والا ہوں اس واسطے ان سے آخری ملاقات کروں گا۔چنانچہ جہاں مرزا صاحب