سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 138
سیرت المہدی 138 حصہ اوّل آجاوے۔پھر اگر میرے سامنے وہ آگ میں داخل ہوگا تو زندہ نہیں نکلے گا۔چنانچہ میں نے آپ کا یہ جواب لکھ دیا مگر وہ نہیں آیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ نادان لوگ بعض اوقات ایسی باتوں سے خدائی قدرت نمائیوں کے متعلق شکوک میں مبتلا ہو جاتے ہیں حالانکہ خدائی باتوں میں خدائی جلوے ہوتے ہیں جو خدا کے چہرہ کو ظاہر کر نے والے ہوتے ہیں مگر انسان خواہ اپنے علم سے کیا کچھ بنالے مگر پھر بھی حالات کا مطالعہ کرنے والوں کو انسانی کاموں میں انسان سے بڑھ کر کوئی چہرہ نظر نہیں آسکتا چنانچہ بعض اوقات ایک ہی بات ہوتی ہے مگر جب وہ خدا کی طرف سے آتی ہے تو اور شان رکھتی ہے اور انسان کی طرف سے آتی ہے تو اور شان رکھتی ہے۔اسی مثال میں ظاہر ہورہا ہے کہ کس طرح خدائی قدرت نمائی کے سامنے انسانی طلسم پر پانی پھر گیا۔معلوم ہوتا ہے یہ شخص بھی حضرت موسی کے زمانہ کے شعبدہ بازوں کی طرح کوئی شعبدہ دکھاتا ہوگا۔مگر مسیح موعود پر اس معاملہ میں خدا کا فضل موسی سے بڑھ کر معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہاں تو انسانی طلسم کو مٹانے کے لئے موسیٰ کو کچھ دکھانا پڑا اور یہاں صرف دکھانے کا نام لینے پر ہی طلسم پاش پاش ہو گیا اور دشمن کو سامنے آنے کی جرات ہی نہ ہوئی فالحمد للہ علی ذالک۔148 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ جب منارہ مسیح کے بننے کی تیاری ہوئی تو قادیان کے لوگوں نے افسران گورنمنٹ کے پاس شکائتیں کیں کہ اس منارہ کے بننے سے ہمارے مکانوں کی پردہ دری ہوگی۔چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک ڈپٹی قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسجد مبارک کے ساتھ والے حجرہ میں ملا۔اس وقت قادیان کے بعض لوگ جو شکایت کرنے والے تھے وہ بھی اس کے ساتھ تھے۔حضرت صاحب سے ڈپٹی کی باتیں ہوتی رہیں اور اسی گفتگو میں حضرت صاحب نے ڈپٹی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ بڈھا مل بیٹھا ہے آپ اس سے پوچھ لیں کہ بچپن سے لے کر آج تک کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اسے فائدہ پہنچانے کا مجھے کوئی موقعہ ملا ہواور میں نے فائدہ پہنچانے میں کوئی کمی کی ہو اور پھر اسی سے پوچھیں کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے تکلیف دینے کا اسے کوئی موقعہ ملا ہو تو اس نے مجھے تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔حافظ صاحب نے بیان کیا کہ میں اس وقت بڑھامل کی طرف دیکھ رہا تھا اس نے شرم کے مارے اپنا سر نیچے اپنے زانوؤں میں دیا ہوا تھا۔اور اس کے چہرہ کا رنگ ا