سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 7
سیرت المہدی 7 حصہ اوّل سب سو گئے اور رات کا ایک حصہ گذر گیا تو مجھے کچھ ٹک ٹک کی آواز آئی اور میرے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اس کمرے کی چھت گرنے والی ہے۔اس پر میں نے اپنے ساتھی مسیتا بیگ کو آواز دی کہ مجھے خدشہ ہے کہ چھت گرنے والی ہے۔اس نے کہا میاں یہ تمہارا وہم ہے نیا مکان بنا ہوا ہے اور بالکل نئی چھت ہے آرام سے سو جاؤ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں پھر لیٹ گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر وہی ڈر میرے دل پر غالب ہوا میں نے پھر اپنے ساتھی کو جگایا مگر اس نے پھر اسی قسم کا جواب دیا میں پھر نا چار لیٹ گیا مگر پھر میرے دل پر شدت کے ساتھ یہ خیال غالب ہوا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا شہتیر ٹوٹنے والا ہے۔میں پھر گھبرا کر اُٹھا اور اس دفعہ بتی کے ساتھ اپنے ساتھی کو کہا کہ میں جو کہتا ہوں کہ چھت گرنے والی ہے اُٹھو۔تو تم اُٹھتے کیوں نہیں۔اس پر نا چار وہ اُٹھا اور باقی لوگوں کو بھی ہم نے جگا دیا پھر میں نے سب کو کہا کہ جلدی باہر نکل کر نیچے اُتر چلو۔دروازے کے ساتھ ہی سیڑھی تھی میں دروازے میں کھڑا ہوگیا اور وہ سب ایک ایک کر کے نکل کر اُترتے گئے۔جب سب نکل گئے تو حضرت صاحب فرماتے تھے کہ پھر میں نے قدم اُٹھایا ابھی میرا قدم شاید آدھا باہر اور آدھا د ہلیز پر تھا کہ یک لخت چھت گرمی اور اس زور سے گرمی کہ نیچے کی چھت بھی ساتھ ہی گر گئی حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ جن چار پائیوں پر ہم لیٹے ہوئے تھے وہ ریزہ ریزہ ہوگئیں۔خاکسار نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ مسیتا بیگ کون تھا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہ تمہارے دادا کا ایک دور نزدیک سے رشتہ دار تھا اور کارندہ بھی تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسی ثانی نے اس روایت کو ایک دفعہ اس طرح پر بیان کیا تھا کہ یہ واقعہ سیالکوٹ کا ہے جہاں آپ ملازم تھے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ چھت بس میرے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی ہے اور نیز حضرت خلیفتہ اسی ثانی نے بیان کیا کہ اس کمرہ میں اس وقت چند ہندو بھی تھے جو اس واقعہ سے حضرت صاحب کے بہت معتقد ہو گئے۔10 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود نے بیان فرمایا کہ جب بڑے مرزا صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود کے والد صاحب ) کشمیر میں ملازم تھے تو کئی