سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 6

سیرت المہدی 6 حصہ اوّل حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب ہم شہر سے نکلے تو ناگاہ بادل کا ایک ٹکڑا اُٹھا اور میرے اور سورج کے درمیان آگیا اور ساتھ ساتھ آیا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیا وہ ہندو پھر کچھ بولا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا یاد پڑتا ہے کہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ پھر اس ہندو نے بہت معذرت کی اور شرمندہ ہوا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہ گرمی کے دن تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہی روایت مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے بھی بیان کی ہے۔انہوں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ واقعہ سنا تھا۔صرف یہ اختلاف ہے کہ مولوی صاحب نے بٹالہ کی جگہ امرتسر کا نام لیا اور یقین ظاہر کیا اس بات پر کہ اس ہندو نے اس خارق عادت امر کو محسوس کیا تھا اور بہت شرمندہ ہوا تھا۔8 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ کسی مقدمہ کے واسطے میں ڈلہوزی پہاڑ پر جارہا تھا راستہ میں بارش آگئی میں اور میرا ساتھی یکہ سے اُتر آئے اور ایک پہاڑی آدمی کے مکان کی طرف گئے جو راستہ کے پاس تھا۔میرے ساتھی نے آگے بڑھ کر مالک مکان سے اندر آنے کی اجازت چاہی مگر اس نے روکا اس پر ان کی باہم تکرار ہوگئی اور مالک مکان تیز ہو گیا اور گالیاں دینے لگا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں یہ تکر ارسن کر آگے بڑھا۔جونہی میری اور مالک مکان کی آنکھیں ملیں تو پیشتر اسکے کہ میں کچھ بولوں اس نے اپنا سر نیچے ڈال لیا اور کہا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ میری ایک جوان لڑکی ہے اس لئے میں اجنبی آدمی کو گھر میں نہیں گھنے دیتا مگر آپ بے شک اندر آجائیں۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ وہ ایک اجنبی آدمی تھا نہ میں اسے جانتا تھا اور نہ وہ مجھے جانتا تھا۔و بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب میں کسی سفر میں تھا۔رات کے وقت ہم کسی مکان میں دوسری منزل پر چوبارہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔اسی کمرے میں سات آٹھ اور آدمی بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔جب