سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 8

سیرت المہدی 8 حصہ اوّل دفعہ ایسا ہوا کہ ہماری والدہ نے کہا کہ آج میرا دل کہتا ہے کہ کشمیر سے کچھ آئے گا تو اسی دن کشمیر سے آدمی آگیا اور بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ ادھر والدہ صاحبہ نے یہ کہا اور ادھر دروازہ پر کسی نے دستک دی۔دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کشمیر سے آدمی آیا ہے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ تمہارے دادا کشمیر سے اپنے آدمی کو چند ماہ کے بعد خط اور روپیہ دے کر بھیجا کرتے تھے۔نقدی وغیرہ چاندی سونے کی صورت میں ایک گدڑی کی تہہ کے اندر سلی ہوئی ہوتی تھی جو وہ آدمی راستہ میں پہنے رکھتا تھا اور قادیان پہنچ کر اتار کر اندر گھر میں بھیج دیتا تھا۔گھر والے کھول کر نقدی نکال لیتے تھے اور پھر گدڑی واپس کر دیتے تھے۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا کشمیر میں صوبہ تھے۔اس وقت حضرت خلیفہ مسیح ثانی بھی اوپر سے تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ جس طرح انگریزوں میں آجکل ڈپٹی کمشنر اور کمشنر وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح کشمیر میں صوبے گورنر علاقہ ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری دادی صاحبہ یعنی حضرت مسیح موعود کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا وہ دادا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔ان کو حضرت صاحب سے بہت صحت تھی اور آپ کو ان سے بہت محب تھی۔میں ن کی دفعہ دیکھا ہے کہ جب آپ ان کا ذکر فرماتے تھے تو آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں۔11 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنوں میں سے منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔نیز بیان کیا حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے کہ جب مبارکہ بیگم (ہماری ہمشیرہ) پیدا ہونے لگی تو منگل کا دن تھا اسلئے حضرت صاحب نے دعا کی کہ خدا اُسے منگل کے تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رکھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن تو ام پیدا ہوئے تھے اور فوت ہوئے منگل کے دن۔اور جاننا چاہئے کہ زمانہ کی شمار صرف اہل دنیا کے واسطے ہے اور دنیا کے واسطے واقعی آپ کی وفات کا دن ایک مصیبت کا دن تھا۔اس روایت سے یہ مراد نہیں ہے کہ منگل کا دن کوئی منحوس دن ہے بلکہ جیسا کہ حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۲۲۳۱۱ و ۳۶۰ میں تشریح کی جاچکی ہے۔اس سے صرف یہ مراد ہے کہ منگل کا دن بعض اجرام سماوی