سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 97
سیرت المہدی 97 حصہ اوّل نوعیت کا تھا اور نیز وہ خاص جماعت احمدیہ کے متعلق تھا۔یعنی یہ دھکا حضرت مسیح موعود کے متعلق نہیں تھا یعنی ایسا واقعہ نہیں تھا جو آپ کے صدق دعوئی کے متعلق کمزور دلوں میں عام طور پر کوئی اشتباہ پیدا کر سکے اس کے بعد اور بھی آئندہ سنت اللہ کے موافق اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے مطابق مصائب کی آندھیاں آئیں گی مگر یہ پانچ زلزلے اپنی نوعیت میں اور ہی رنگ رکھتے ہیں اور یہ عبارت لکھتے لکھتے خاکسار کو خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود کو جو پانچ زلزلوں کی خبر دی گئی تھی اور آخری زلزلہ کو زلزلة الساعۃ کہا گیا تھا وہ گودنیا کے واسطے الگ بھی مقدر ہوں مگر اس میں شک نہیں کہ ان پانچ زلزلوں پر بھی آپ کی اس پیشگوئی کے الفاظ صادق آتے ہیں۔117 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضرت صاحب کے پاس آیا۔اسے اس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گذر چکا تھا بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا حضرت صاحب نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں اس نے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے اب کیا کھولنا ہے۔حضور نے فرمایا آپ سینہ زوری سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔خدا تعالی سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے۔جب اس نے فرما دیا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو نہیں رکھنا چاہیے۔اس پر اس نے روزہ کھول دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے زمانہ میں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اعتکاف بیٹھے مگر اعتکاف کے دنوں میں ہی ان کو کسی مقدمہ میں پیشی کے واسطے باہر جانا پڑ گیا چنانچہ وہ اعتکاف تو ڑ کر عصر کے قریب یہاں سے جانے لگے تو حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپکو مقدمہ میں جانا تھا تو اعتکاف بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی۔118 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہماری تائی صاحبہ نے کہ میرے تایا ( یعنی خاکسار کے دادا صاحب) کبھی کبھی مرزا غلام احمد یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سیتی یا مسیتہ کہا کرتے تھے۔تائی صاحبہ نے کہا کہ میرے تایا کو کیا علم تھا کہ کسی دن ان کی خوش قسمتی کیا کیا پھل لائے گی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسیتی پنجابی میں اسے کہتے ہیں جو ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سنا ہے کہ