سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 98
سیرت المہدی 98 حصہ اوّل بعض دوسرے لوگ بھی حضرت صاحب کے متعلق یہ لفظ بعض اوقات استعمال کر دیتے تھے۔119 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ حضرت صاحب کا مقدمہ تھا تو ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ حضرت صاحب کو امرتسر میں سولی پر لٹکا یا جائے گا تا کہ قادیان والوں کو آسانی ہو۔میں نے یہ خواب حضرت صاحب سے بیان کیا تو حضرت صاحب خوش ہوئے اور کہا کہ یہ مبشر خواب ہے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب سولی پر چڑھنے کی یہ تعبیر کیا کرتے تھے کہ عزت افزائی ہوگی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مقدمہ میں پھر اپیل ہو کر امرتسر میں ہی آپ کی بریت کا فیصلہ ہوا۔نیز بیان کیا حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن دنوں میں یہ مقدمہ تھا ایک دفعہ حضرت صاحب نے گھر میں ذکر کیا کہ مجسٹریٹ کی نیت بہت خراب معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ مجسٹریٹ کی بیوی نے خواب دیکھا ہے کہ اگر اس کا خاوند کوئی ایسی ویسی بات کرے گا تو اس کے گھر پر و بال آئیگا چنانچہ اس نے اپنے خاوند کو یہ خواب سنا دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرے۔والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ جب مجسٹریٹ کا ایک لڑکا مر گیا تو اس کی بیوی نے اسے کہا کہ کیا تو نے گھر کو اجاڑ کر چھوڑنا ہے؟ نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ جس دن اس مقدمہ کا فیصلہ سنایا جانا تھا اس دن کئی لوگ اپنی جیبوں میں روپیہ بھر کر لے گئے تھے کہ اگر مجسٹریٹ جرمانہ کرے تو ادا کر دیں۔اور نواب محمد علی خان صاحب بھی لاہور سے کئی ہزار روپیہ ساتھ لائے تھے۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب بیان کرتے تھے کہ اس مقدمہ کے دنوں میں جہاں عدالت کے باہر درختوں کے نیچے حضرت صاحب بیٹھا کرتے تھے اس کے سامنے سے ہر روز ڈپٹی کمشنر گذرا کرتا تھا کیونکہ یہی اس کا راستہ تھا۔ایک دفعہ اس نے اپنے اردلی سے پوچھا کہ کیا یہ مقدمہ اب تک جاری ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ڈپٹی کمشنر نے ہنس کر کہا اگر میرے پاس ہوتا تو میں ایک دن میں فیصلہ کر دیتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر انگریز تھا۔120 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ میں اور چند اور آدمی جن میں غالباً مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے حضرت صاحب سے ملنے کے لئے