سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 96 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 96

سیرت المہدی 96 حصہ اوّل پہلے ہو چکا تھا سلسلہ بیعت کا اعلان فرمایا اور سب سے پہلے شروع ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت لی۔مگر اس وقت تک بھی مسلمانوں کا عام طور پر حضرت مسیح موعود کی ذات کے متعلق خیال عموماً بہت اچھا تھا اور اکثر لوگ آپ کو ایک بے نظیر خادم اسلام سمجھتے تھے۔صرف اتنا اثر ہوا تھا کہ لوگوں میں جو پسر موعود کی پیشگوئی پر ایک عام رجوع ہوا تھا اس کا جوش ان دولگا تار مایوسیوں نے مدھم کر دیا تھا اور عامۃ الناس پیچھے ہٹ گئے تھے ہاں کہیں کہیں عملی مخالفت کی لہر بھی پیدا ہونے لگی تھی۔اس کے بعد آخر ۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود نے خدا سے حکم پا کر رسالہ فتح اسلام تصنیف فرمایا جو ابتداء ۱۸۹۱ء میں شائع ہوا۔اس میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی وفات اور اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔اس پر ملک میں ایک زلزلہ عظیم آیا جو پہلے سب زلزلوں سے بڑا تھا بلکہ ایک لحاظ سے پچھلے اور پہلے سب زلزلوں سے بڑا تھا۔ملک کے ایک کونہ سے لیکر دوسرے کونے تک جوش و مخالفت کا ایک خطر ناک طوفان برپا ہوا اور علماء کی طرف سے حضرت صاحب پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور آپ کو واجب القتل قرار دیا گیا اور چاروں طرف گویا ایک آگ لگ گئی۔مولوی محمد حسین بٹالوی بھی جواب تک بچا ہوا تھا اسی زلزلہ کا شکار ہوا اور یہ سب سے پہلا شخص تھا جو کفر کا استفتاء لے کر ملک میں ادھر اُدھر بھاگا۔بعض بیعت کنندے بھی متزلزل ہو گئے۔اس کے بعد چوتھا زلزلہ آتھم کی پیشگوئی کی پندرہ ماہی میعاد گذرنے پر آیا۔یہ دھکا بھی اس وقت کے لحاظ سے نہایت کڑ ادھ کا تھا مگر جماعت حضرت صاحب کی تربیت کے نیچے ایک حد تک مستحکم اور سنت اللہ سے واقف ہو چکی تھی اس لئے برداشت کر گئی لیکن مخالفوں میں سخت مخالفت و استہزاء کی لہر اٹھی۔اس کے بعد زلزلہ کے خفیف خفیف دھکے آتے رہے مگر وہ قابل ذکر نہیں لیکن سب کے آخر میں جماعت پر پانچواں زلزلہ آیا یہ حضرت مسیح موعود کی وفات کا زلزلہ تھا۔اس دھکے نے بھی اس وقت سلسلہ کی عمارت کو بنیاد تک ہلا دیا تھا اور یہ وہ زلزلہ عظیم تھا جسے زلزلة الساعة کہنا چاہئیے ، اور اسکو زیادہ خطر ناک اس بات نے کر دیا تھا کہ اس سے پہلے زلزلے خواہ کیسے بھی سخت تھے مگر حضرت مسیح موعود کا مقناطیسی وجود لوگوں کے اندر موجود تھا اور آپ کا ہاتھ ہر گرتے ہوئے کو سنبھالنے کیلئے فوراً آگے بڑھتا تھا مگر اب وہ بات نہ تھی۔یہ وہ پانچ زلزلے تھے جو حضرت مسیح موعود کے متعلق آپ کی جماعت پر آئے۔ان کے بعد حضرت خلیفہ اول کی وفات پر بھی سخت زلزلہ آیا مگر وہ اور