سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 535 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 535

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 535 حضرت جریر بن عبد الله المعلی رضی اللہ عنہ پشت جڑی ہوئی ہے۔رسول کریم ﷺ نے یہ الفاظ اپنے روحانی رشتہ کے اظہار کیلئے یا تو حضرت سلمان فارسی کیلئے استعمال فرمائے جو رسول اللہ پر نہایت اخلاص سے ایمان لائے اور کمال اطاعت اور وفا سے اس پر قائم رہے۔یہی محاورہ امت میں آنے والے امام مہدی کیلئے بھی استعمال کیا کہ وہ ہمارے اہل بیت سے ہو گا اور حضرت جریر کو بھی ان کی خالص محبت و اطاعت کی وجہ سے اہل بیت میں سے قرار دیا۔(17) حضرت جریر ایک دفعہ حضرت عمر کی مجلس میں تھے۔شرکاء مجلس میں سے کسی سے بد بو اٹھی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ میں اس بد بو پیدا کرنے والے شخص کو یہ حکم دیتا ہوں کہ وہ اٹھے اور جا کر وضو کرے۔حضرت جریر نے عرض کی امیر المومنین! آپ ہم سب کو یہ ارشاد فرما ئیں کہ ہم وضو کر کے آئیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں سب وضوء کر کے آئیں۔پھر حضرت جریر سے فرمایا آپ جاہلیت میں بھی سردار تھے اور اسلام میں بھی سردار ہو۔حضرت جریر کا ایک پر حکمت قول معروف ہے کہ گونگا بن جانا چرب زبانی و دھوکہ دہی سے بہتر ہے اور گونگا ہونا گالی گلوچ کرنے سے بہتر ہے۔(18) رسول کریم ﷺ نے حضرت جریر کو یمن میں بعض قبائل پر نگران مقرر کر کے بھجوایا تھا۔حضرت عمر کے زمانہ میں وہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس کوفہ آئے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا آپ نے حضرت سعد کو ان کی امارت میں کیسا پایا؟ حضرت جریر نے کیا خوبصورت اور فصیح و بلیغ آنکھوں دیکھا حال بیان کیا انہوں نے کہا ” میں نے انہیں قدر و منزلت میں سب سے زیادہ باعزت اور معذرت میں سب سے عمدہ پایا۔وہ اپنے عوام کیلئے ایک شفیق ماں کی طرح ہیں جو انہیں وحدت کی لڑی میں پروئے رکھتے ہیں اس پر مستزاد ان کے وجود کی برکت ہے، انہیں کلید فتح و ظفر نصیب ہے۔اور وہ 66 مقابلہ میں بہت مضبوط اور غالب ہیں۔اور لوگوں کو قریش میں سے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔“ حضرت عمرؓ نے فرمایا اب عوام کا حال سنائیں۔اس پر حضرت جریر نے کہا اس کی مثال ترکش کے ملے جلے تیروں کی سی ہے جن میں کچھ سیدھے پر والے ہیں اور کچھ ٹیڑھے نشانہ لگنے والے اور سعد بن ابی وقاص ایک ماہر ذہین نشانہ باز کی طرح ان کے ٹیڑھے پن کو درست کرتا ہے باقی اے عمر! دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے۔