سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 536
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 536 حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ حضرت عمرؓ نے پوچھا لوگوں کے اسلام اور دین کی کیا حالت ہے۔انہوں نے کہا وہ اپنے وقت پر نماز میں ادا کرتے ہیں اور اپنے حاکموں کی اطاعت کرتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا الحمد للہ جب نماز ہوتی ہے اور زکوۃ ادا کی جاتی ہے اور جب تک اطاعت ہے تب تک جماعت ہے۔حضرت علی کو آپ پر کامل اعتماد تھا۔انہوں نے حضرت جری کو حضرت معاویہ کی طرف اپنا سفیر صلح بنا کر روانہ کیا تھا۔حضرت معاویہؓ نے انہیں پہلے تو کافی دیر روک رکھا۔پھر ان کے ساتھ ایک چمڑے کا ٹکڑا بطور نشانی محض ایک مہر لگا کر بغیر کسی تحریر کے بھجوایا۔اور ساتھ اپنا ایک نمائندہ بھجوایا جو حضرت جریر سے ان کی گفتگو کا احوال خود بیان کرے۔(19) حضرت جریر کی وفات 51 سے 54ھ کے درمیان ہوئی۔آخری عمر میں کوفہ میں اور قرقیساء میں بھی سکونت فرمائی۔-1 -2 -5 -6 -7 -8 -9 -10 -11 حواله جات مسند احمد جلد 4 ص 358 ،اسدالغابہ جلد 1 ص379 الاصابہ ج 1 ص 242 طبرانی بحوالہ مجمع الزوائد جلد 9 ص 372 احمد وطبرانی بحوالہ مجمع الزوائد جلد 9 ص 372 طبرانی بحوالہ مجمع الزوائد جلد 9 ص 372 مسند احمد جلد 4 ص357 بخاری کتاب المغازی مسند احمد جلد 4 ص364 اصابہ ج 1 ص 242,243 اسد الغابہ جلد 1 ص279 استیعاب جلد 1 ص 309 مند جلد 4 س 364