سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 534
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 534 حضرت جریر بن عبد الله المجلی رضی اللہ عنہ کپڑوں کا ڈھیر جمع ہو گیا۔اسے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دمک اٹھا۔فرمایا ”جس نے نیک سنت قائم کی اسے اس کا اجر اور اس پر عمل کرنے والوں کو اجر ضرور ملے گا۔‘ (15) حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مدینہ سے سفر پر نکلے سامنے سے ایک سوار آتا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا تمہاری طرف آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔پھر اس سے پوچھا کہاں سے آرہے ہو۔اس نے کہا اپنے کنبہ سے۔کہاں جانا ہے بولا رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ نے فرمایا۔تم ان کے پاس پہنچ گئے اس نے ایمان کے بارہ میں پوچھ کر ارکان ایمان کو تسلیم کیا اور اسلام قبول کر لیا۔رسول کریم ﷺہ اسے دوران سفر اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اس دوران اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں پڑا اور وہ غیر متوازن ہو کر اچانک گرا۔جس پر وہ گردن کے بل گرا اور وہیں اس کی موت واقع ہوگئی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ۔حضرت عمارہ حضرت حذیفہ لے آئے اور عرض کیا کہ فوت ہو گیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے دو فرشتوں کو اس کے منہ میں جنت کے پھل دیتے دیکھا اور میں سمجھ گیا کہ جب اسکی وفات ہوئی تو اسے بھوک لگی تھی۔اس نے بے شک اس عرصہ میں بظاہر کم عمل کرنے کی توفیق پائی مگر قبول اسلام اور اخلاص میں بہت زیادہ اجر پانے والا بن گیا۔(16) پھر یہ فرمایا ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارہ میں الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْم (انعام: 83) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا۔یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔حضور اس کے دفن کرنے میں خود شریک ہوئے۔جریر اہل بیت سے ہے حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جریر کے بارہ میں اپنے تعلق کا اظہار ان محبت بھرے الفاظ میں فرمایا تھا۔جَرِيرٌ مِنَّا أَهلَ البَيتِ - جریر تو اس طرح ہمارا اہل بیت ہے۔جس طرح پیٹ کے ساتھ