سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 531
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 531 حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ پیٹ پر ہاتھ پھیرا، حضرت جریر کو اچانک نہ جانے کیا خیال آیا کہ کہیں حضور کا ہاتھ زیر زار نہ چلا جائے وہ از راہ حیاء و شرم فوراً آگے جھک کر کبڑے سے ہو گئے۔رسول کریم میہ ان کی اس بے ساختہ حرکت پر بہت محظوظ ہوئے۔(5) رسول کریم ہے تو ان کے اور ان کی اولاد کیلئے برکت کی دعا کر رہے تھے۔یہ دعا اللہ تعالیٰ کے شکر کے اظہار کے طور پر بھی تھی جس نے پیشگی اس نیک فطرت کے آنے کی خبر اپنے رسول کو عطا فرما دی۔اور اس بات کے پورا ہونے پر خوشی کا اظہار بھی !! معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جریر یا اللہ تعالیٰ سے علم پا کر استقبال اور ان کا شرم و حیاء سے کبڑے ہو جانے کا دلچسپ نظارہ ہر دفعہ انہیں دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کو یاد آ جاتا رہا اور آپ اس سے محفوظ ہوتے رہے۔چنانچہ حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا رسول اللہ نے کبھی مجھے ملاقات سے نہیں روکا اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کی نظر مجھ پر پڑی ہو اور آپ مسکرائے نہ ہوں۔بہر حال ہر دفعہ انہیں دیکھ کر مسکرا نا یقیناً معنی خیز تھا۔حضرت جریر کہتے ہیں کہ بیعت کے وقت میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ مجھے بیعت کی وہ شرائط بتا دیں جن پر مجھے قائم رہنا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے فرض نماز ادا کروگے، زکوۃ دو گے، مسلمانوں کی خیر خواہی کرو گے، اور (دشمن) کافروں سے بیزاری ظاہر کرو گے۔‘ ( 6 ) حضرت جریر نے آخر وقت تک اس عہد بیعت کو خوب نبھایا۔حضرت جریر بہت خوبصورت اور خوش شکل انسان تھے۔قد چھ فٹ سے بھی لمبا تھا پاؤں پورا ایک فٹ تھا۔حضرت عمرؓ نے انہیں کسی کھیل کے میدان یا فوجی پریڈ میں مختصر لباس میں دیکھا تو چاک چوبند متناسب جسم اور متوازن اعضاء دیکھ کر کہنے لگے ”میں نے ایسا خوبصورت جسم والا حسین و جمیل شخص پہلے نہیں دیکھا البتہ حضرت یوسف کے ایسے حسن کا ذکر ضرور سن رکھا ہے۔“ چنانچہ حضرت عمر حضرت جریری کو اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔(7) دعائے رسول اور خدمات جریر نبی کریم ﷺ نے حضرت جریر کے سپر دو قتافوقتا اہم ذمہ داریاں کیں۔مشرکین نے فتح مکہ