سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 530 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 530

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 530 حضرت جریر بن عبد الله المجلی رضی اللہ عنہ مجلس میں تھا جن میں اکثر اہل یمن تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے کشفی نظارہ سے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر یہ اطلاع دی کہ تمہارے پاس یمن کا بہترین شخص آنے والا ہے۔یمن کے ہر قبیلہ کے لوگ اس امید و بیم میں انتظار کرنے لگے کہ شاید وہ آنے والا ان کے قبیلہ سے ہو۔پھر نا گہاں دیکھا تو حضرت عبد اللہ بن جریر گھائی سے گویا چاند بن کر طلوع ہوئے ، وہ آئے اور رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔سب نے سلام کا جواب دیا، نبی کریم ﷺ نے اپنی چادران کیلئے بچھادی اور فرمایا "جریر ! آئیں اس چادر پر تشریف رکھیں، آپ خود بھی ان کے ساتھ اس چادر پر کچھ دیر تشریف فرما ہوئے۔جب آپ جانے کیلئے اٹھے تو صحابہ رسول نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج ہم نے آپ سے جریر کیلئے اکرام کا ایسا عجیب منظر دیکھا جو اس سے پہلے کسی اور کیلئے نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا یہ اپنی قوم کے سردار ہیں اس لئے ان کا عزت و احترام واجب ہے۔(3) خود حضرت جریر بیان کرتے تھے کہ ”جب میں مدینہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر اپنا تھیلا کھول کر اپنی پوشاک نکال کر زیب تن کی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے تیار ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضور خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔لوگوں نے آنکھوں آنکھوں میں مجھے کچھ اشارے کئے۔میں نے اپنے قریب بیٹھے ساتھی سے پوچھا " اے اللہ کے بندے کیا خدا کے رسول نے میرا ذکر کیا ہے اس نے کہا آپ کا بہت عمدہ ذکر کیا ہے۔دراصل دوران خطبہ ہی نبی کریم ﷺ کو میری آمد کا نظارہ کرایا گیا تھا۔آپ نے میری آمد کی پیشگی اطلاع دیتے ہوئے صحابہ سے فرمایا کہ اس کے چہرے پر سر داری یا شاہی نشان ہے۔میں نے اللہ کی طرف سے اس انعام پر اس کی خوب حمد کی۔(4) حضرت براء بن عازب کی روایت ہے کہ جب حضرت جریر حضور ﷺ کی اطلاع کے مطابق آ گئے تو انہوں نے حضور کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ کو سلام کر کے بیعت کی سعادت پائی اور ہجرت کر کے مدینہ کے ہور ہے۔شفقت رسول حضور ﷺ نے ان کی آمد پر پوچھا کہ تم کون ہو انہوں نے بتایا جریر بن عبداللہ البجلی۔رسول کریم ﷺ نے انہیں اپنے پہلو میں جگہ دی۔از راہ شفقت و برکت ان کے سر، چہرے، سینے اور