سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 532
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 532 حضرت جریر بن عبد الله المعلی رضی اللہ عنہ کے بعد خانہ کعبہ کے مقابل پر پہلے سے بنائے گئے دیگر معبدوں کو بت پرستی کے اڈے اور اسلام کے خلاف سازشوں کے گڑھ بنانا چاہا۔ان میں ایک اڈہ کعبہ یمانیہ تھا۔جو ذی الخلصہ میں شعم قبیلہ نے بنا رکھا تھا۔نبی کریم ﷺ نے حضرت جریر سے فرمایا کہ کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے نجات نہیں دلاؤ گے؟ حضرت جریر ڈیڑھ صد گھوڑ سواروں کا ایک دستہ لے کر روانہ ہوئے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں گھوڑے پر جم کر نہ بیٹھ سکتا تھا۔رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تو آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپ کی انگلیوں کے آثار اپنے سینہ میں دیکھے۔آپ نے فرمایا اللَّهُمَّ ثَبَتْهُ وَ اجْعَلَهُ هَادِياً مَهْدِیا۔اے اللہ اسے گھوڑے پر جمادے اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنادے۔رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا خوب قبول ہوئی۔(8) حضرت جریر نے دعا کی بدولت کما حقہ یہ خدمت انجام دی۔وہیں سے اپنا نمائندہ حضور کی خدمت میں بھجوایا کہ حسب ارشاد کام مکمل ہو گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت حضرت جریر کو یمن میں ایک یہودی عالم نے خبر دی کہ تمہارے نبی آج وفات پاگئے ہیں۔بعد میں اس کی تصدیق ہوئی کہ سوموار کے روز ہی رسول کریم علیہ فوت ہوئے تھے۔(9) حضرت عمر کے زمانہ میں عراق ، قادسیہ اور تستر کی جنگوں میں حضرت جریر نے بہت کارنامے انجام دئے۔جب عراق کی جنگوں میں بعض جگہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو انہوں نے مدینہ سے کمک منگوائی۔انہی دنوں حضرت عمرؓ کے پاس حضرت جریر کے قبیلہ بجیلہ کا وفد آیا تھا۔انہوں نے حضرت جر بڑ کو اس قبیلہ کا امیر لشکر مقرر کر کے انہیں بطور کمک بھجوایا۔گویا یہ بجیلہ بٹالین یار جمنٹ بن گئی جس نے ان جنگوں میں بہادرانہ کارنامے سرانجام دئے۔فتح قادسیہ میں حضرت جریری کا بڑا حصہ تھا۔(10) اخلاق فاضلہ عہد بیعت کا خیال آخر دم تک تھا جسے خوب نبھایا۔بہت باریکی سے اس کا خیال رکھتے۔کہتے تھے۔” میں نے رسول اللہ اللہ کی بیعت سننے اور اطاعت کرنے پر کی تھی اور اس بات پر کہ ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔جب کسی سے سودا خریدتے اور وہ اس چیز کی قیمت کی نسبت زیادہ پسند