سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 529 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 529

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 529 حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ حضرت جریر بن عبد اللہ الجیلی حضرت جریر بن عبد اللہ کا تعلق یمن کے قبیلہ بجیلہ سے تھا۔بجیلہ بنت سعد اس قبیلہ کی ایک بہادر خاتون تھیں جن سے یہ قبیلہ منسوب ہوا۔(1) حضرت جریر کی کنیت ابوعمر و یا ابوعبداللہ مشہور تھی۔قبول اسلام حضرت جریر کے قبول اسلام میں اختلاف ہے۔طبرانی کی ایک روایت حضرت جریر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مبعوث ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اسلام قبول کرنے حاضر ہوا ہوں۔آپ نے اپنی چادر میری طرف پھینکی اور فرمایا جب کسی قوم کا سردار آئے تو اس کی عزت کرو۔ابتدائی زمانہ میں قبول اسلام کی یہ روایت کمزور ہے۔علامہ ابن حجر کے نزدیک یہ روایت قبول کرنے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مجاز جریر کی روایت کا یہ مطلب لیا جائے کہ جب انہیں رسول اللہ کی بعثت کا علم ہوا انہوں نے حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔گویا انہیں تاخیر سے یہ پتہ چلا۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت جریر حجۃ الوداع میں لوگوں کو خاموش کرانے پر مامور تھے۔حضور نے اس موقع پر جو خاص نصیحت فرمائی کہ میرے بعد آپس میں جنگ و جدل نہ کرنا ایک دوسرے کی گردنیں نہ کاٹنا۔جو حضرت جریڑ کو خوب یاد تھی۔واقدی نے حضرت جریری کا قبول اسلام رمضان 10ھ بیان کیا ہے۔مگر یہ محل نظر ہے کیونکہ بعض اور قرائن سے حضرت جریر کا زمانہ اسلام اس سے پہلے معلوم ہوتا ہے۔طبرانی کے مطابق حضرت جریر کا اپنا بیان ہے کہ رسول اللہ نے ہمیں فرمایا کہ تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے۔اس کے جنازے کیلئے کھڑے ہو جاؤ اور نجاشی کی وفات کا زمانہ فتح خیبر 7ھ کے بعد کا ہے۔(2) جریر کا اعزاز و اکرام حضرت عبداللہ بن حمزہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ صحابہ کی