سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 519 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 519

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 519 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ میں کسی بیان کردہ نشانی کی توثیق کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے اپنی پشت سے چادر اٹھا دی اور میں نے مہر نبوت دیکھ کر آپ کو پہچان لیا۔پھر کیا تھا میں تو آپ سے چمٹ گیا۔آپ کو چومنے لگا اور ساتھ روتا جاتا تھا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اب سامنے بیٹھ جاؤ میں بیٹھ گیا اور اپنا سارا قصہ آپ کو کہہ سنایا۔رسول اللہ ﷺ کو میری کہانی بہت پسند آئی اور آپ کو خواہش ہوئی کہ سارے صحابہ بھی یہ دلچسپ واقعہ نہیں۔رسول خدا اسلمان کی آزادی میں کوشاں غلامی کے باعث میں رسول اللہ کے ساتھ غزوہ بدر اور احد میں شامل نہ ہو سکا۔رسول اللہ ہے نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اپنے مالک سے مکاتبت کر لو یعنی اپنی آزادی کیلئے قیمت مقرر کروا کے اس کی ادائیگی شروع کرو۔میں نے اپنے مالک سے معاہدہ کیا کہ میں اسے تین سو کھجور کے پھلدار پودے کاشت کر کے دوں گا اور چالیس اوقیہ سونا نقد ادا کر دوں گا۔رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا اپنے ساتھی کی مددکرو۔چنانچہ سب صحابہ نے کھجور کے درخت مہیا کرنے میں میری مدد کی۔کسی نے تمیں درخت کسی نے ہیں درخت کسی نے پندرہ اور کسی نے دس۔الغرض ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کی اور تین سو کھجور کے پودے اکٹھے ہو گئے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے سلمان ! اب جا کر یہ پودے گاڑنے کیلئے گڑ ہے کھود نے شروع کرو۔جب اس سے فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آنا۔میں نے گڑھے کھود کر حضور کو اطلاع کی تو آپ میرے ساتھ تشریف لے گئے۔ہم کھجور کا ایک پودا اٹھا کر حضور کے قریب کرتے تھے اور حضور اپنے دست مبارک سے اسے گاڑتے تھے۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے ان پودوں میں سے ایک بھی ضائع نہیں ہوا۔اب حسب معاہدہ درخت لگانے کا کام تو مکمل ہوا چالیس اوقیہ کی ادائیگی باقی تھی۔رسول اللہ ﷺ کی غلامی اور آپ کی شفقت ایک اور روایت میں حضرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ میرے مسلمان ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہود سے خرید لیا۔نقد درہم کے ساتھ قیمت میں یہ شرط طے پائی کہ میں تین سو کھجوروں کا ایک باغ یہودیوں کو لگا کر دوں۔جب وہ باغ پھل دینے لگے گا تو میں آزاد ہوں گا۔نبی