سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 518 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 518

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 518 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ صدقہ ہے۔جو حضور نے نہیں کھایا اور صحابہ کو دے دیا۔حصول مراد ایک اور روایت میں حضرت سلمان نے یہ تفصیل بھی بیان کی ہے کہ اسی زمانے میں میں نے کھجور کی شاخوں سے چٹائی بننے کا کام سیکھا۔میں ایک درہم سے چٹائی کا سامان خرید کر دو درہم میں چٹائی تیار کر کے بیچتا تھا اور ایک درہم خود استعمال میں لاتا تھا۔مجھے پسند تھا کہ اپنے ہاتھ سے روزی کما کر کھاؤں۔اسی دوران پتہ چلا کہ مکہ میں نبی ﷺ کا ظہور ہو چکا ہے پھر وہ ہجرت کر کے مدینہ آئے میں نے سوچا کہ موعود علامتوں اور نشانیوں سے متعلق ان کی آزمائش کروں۔چنانچہ بازار سے اونٹ کا گوشت ایک درہم میں خریدا اور اس سے ثرید تیار کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا کہ یہ صدقہ ہے آپ نے نہیں کھایا۔اس وقت تک میری پاس کچھ کھجور میں بھی جمع ہو چکی تھیں۔شام ہوئی تو وہ کھجور میں اور رقم لے کر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں قباء میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ایک نیک انسان ہیں اور آپ کے ساتھ غریب اور صاحب حاجت لوگ ہیں۔میرے پاس صدقہ کی کچھ رقم جمع تھی۔میرے خیال میں آپ لوگوں سے زیادہ اس کا مستحق اور کوئی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم کھاؤ اور خود اپنا ہاتھ روکے رکھا اور کچھ نہیں کھایا۔میں نے دل میں سوچا کہ لو ایک علامت تو پوری ہوگئی۔پھر میں واپس چلا گیا اور کچھ او رکھجور میں جمع کیں اور رسول کریم ﷺ بھی قباء سے مدینہ منتقل ہو گئے۔پھر میں آپ کے پاس آیا اور اور یہ قباء عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے۔کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے اور اب میں آپ کے اکرام کی خاطر تحفہ لے کر آیا ہوں۔رسول کریم نے اس میں سے کھایا اور صحابہ نے بھی ساتھ کھایا۔میں نے دل میں کہا دونشانیاں پوری ہوگئیں۔پھر میں بقیع الغرقد میں رسول کریم ﷺ کے پاس آیا۔آپ اپنے صحابہ کے ایک جنازہ کے ساتھ جارہے تھے۔آپ نے دو چادرمیں زیب تن فرمائی تھیں اور صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔میں گھوم کر آپ کی پشت کی طرف آکر دیکھنے لگا کہ وہ مہر نبوت نظر آ جائے جس کی نشانی بزرگ موصوف نے مجھے بتائی تھی۔جب رسول کریم ﷺ نے مجھے گھومتے دیکھا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ