سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 520
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 520 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے تمام درخت لگائے سوائے ایک درخت کے جو حضرت عمر نے لگایا۔حضور نے کھجور کی جڑوں میں پانی ڈالنے کا طریق بھی مجھے سمجھایا۔اگلے سال تمام درختوں نے پھل دیا سوائے اس ایک درخت کے۔حضور نے پوچھا یہ کس نے لگایا تھا۔تو پتہ چلا کہ حضرت عمرؓ نے۔حضور نے اسے اکھیڑ کر پھر لگایا تو اگلے سال وہ بھی پھل لے آیا۔رسول کریم ﷺ کے پاس کسی غزوہ سے مرغی کے انڈے کے برابر سونا آیا۔آپ نے پوچھا سلمان فارسی کس حال میں ہے؟ جس نے آزادی کیلئے معاہدہ کیا تھا۔مجھے بلایا گیا۔رسول اللہ ہے نے فرمایا اے سلمان! یہ سونا لو اور اپنے اوپر جو قرض باقی ہے ادا کر دو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ذمہ قرض کے مقابل پر اس کی کیا حیثیت ہے۔یہ تو بہت کم ہے۔آپ نے وہ سونا ہاتھ میں لے کر زبان سے اس پر کچھ تبرک عطا کیا اور فرمایا اب یہ لے لو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ تمہاری ادائیگی کے سامان فرما دے گا۔چنانچہ وہ سونا لے کر میں نے اس کا وزن کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے وہ پورا چالیس اوقیہ نکلا۔میں نے اپنا سارا قرض ادا کر دیا اور آزاد ہو گیا۔اس کے بعد پہلا غزوہ جس میں میں حضور کے ساتھ شریک ہوا وہ غزوہ خندق تھا پھر اس کے بعد تو کسی بھی غزوہ میں کبھی آپ سے پیچھے نہیں رہا۔(3) حضرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے رسول کریم ﷺ کو اس شخص کے بارے میں بتایا جس نے مجھے حضور کی نشانیاں بتائی تھیں تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اس نے مجھے آپ کے نبی ہونے کے بارے میں رہنمائی کی تھی۔آپ نے فرمایا کہ جنت میں اسلام قبول کرنے والا شخص ہی داخل ہوگا۔غزوہ خندق میں حضرت سلمان کی بھر پور شرکت غزوہ احد سے واپسی پر ابوسفیان نے آئندہ سال پھر بدر میں جنگ کا اعلان کیا۔یہود مدینہ اور غطفان کے ساتھ مل کر عرب کے تمام قبائل سے لشکر ا کٹھے کر کے مدینہ پر چڑھائی کر دی۔جب وہ مکہ سے چلے تو رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔حضرت سلمان فارسی اس وقت غلامی سے آزاد ہو کر پہلی دفعہ کسی جنگ میں شامل ہورہے تھے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایران میں