سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 471 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 471

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 471 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے بہت حوصلے بڑھائے۔اور انکی رزمیہ شاعری بھی خوب کام آئی۔یہ تین ہزار کا لشکر دولاکھ کے لشکر کے مقابلے کیلئے آگے بڑھا۔(13) حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی تمنائے شہادت کا ذکر حضرت زید بن ارقم یوں کیا کرتے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ مجھے اپنی اونٹنی کے پیچھے سوار کر کے غزوہ موتہ میں ہمراہ لے گئے۔زیڈ بن ارقم کو حضرت عبداللہ بن رواحہ نے ایک یتیم بچے کے طور پر لیکر پالا اوران کی تربیت کی تھی۔کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا جس میں اپنے اہل خانہ کی یاد کے ساتھ یہ ذکر تھا کہ اب میں کبھی لوٹ کر واپس گھر نہیں جاؤں گا۔بڑے مزے سے وہ یہ شعر گنگنا رہے تھے۔إِذَا أَدْ نَيْتَنِي وَحَمَلتِ رَحْلِى مَسِيرَةَ أَرْبَعِ بَعْدَ الحَسَاء فَشَانُكِ فَا نُعَمِي وَخَلاكِ ذَمٌ وَلَا اَرْجِعُ إِلَى أَهْلِيْ وَرَائِي ان اشعار میں حضرت عبداللہ اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”جمعرات کی وہ شام جب تم نے میرے اونٹ کے پالان کو سفر جہاد کیلئے درست کیا تھا اور آخری دفعہ میرے قریب ہوئی تھی تیری وہ حالت کیا خوب اور مبارک تھی۔تجھ میں کوئی عیب یا خرابی تو نہیں مگر اب میں اس میدان جنگ میں آچکا ہوں اور اس سے لوٹ کر میں تمھاری طرف کبھی واپس نہیں آؤنگا۔“ گویا اپنے اہل خانہ کو یہ انکا غائبانہ الواداع تھا۔کمسن زید نے یہ سنا تو افسردہ ہوکر رودیے۔حضرت عبداللہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ اے ناسمجھ ! اگر اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرمائے تو تیرا نقصان کیا ہے بلکہ تم تو میری سواری لے کرا کیلئے آرام سے اس پر بیٹھ کر واپس لوٹو گے۔(14) میدان جہاد میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے واقعی بہادری کے خوب جو ہر دکھائے۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے تھے کہ حضرت جعفر کی شہادت ہوئی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ لشکر کے ایک جانب تھے لوگوں نے انکو بلایا۔وہ اپنے آپ کو مخاطب کر کے یہ رجزیہ شعر پڑھتے ہوئے آگے بڑھے۔يَانَفُسُ اَلَا تَقْتُلِيْ تَمُوتِي هذَا حَيَاضُ الْمَوْتِ قَد صَلَيْتِ