سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 470 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 470

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 470 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ڈنگ گا کر ٹھوکر نہ کھا جاؤں۔نہ معلوم ایسے کسی ابتلاء کے وقت میرے دل کی کیا کیفیت ہو۔اس حوالے سے مجھے خوف آتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی استقامت بخشے اور شہادت کا موقعہ آئے تو استقامت کے ساتھ اس راہ سے گزر جاؤں تب ان کو صحابہ نے تسلی دلائی اور دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خیریت سے لے جائے اور خیریت سے واپس لائے انہوں نے کہا کہ میں یہ دعا ئیں نہیں چاہتا۔شہادت کی تمنا تھی۔پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے وہ اشعار کہے جن سے ان کی شہادت کی تمنا خوب ظاہر ہوتی لكِنِّي أَسْتَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً وَضَرْبَةٌ ذَاتَ فَرْعٍ يَقْذِفُ الرَّبَدَا دد لیکن میں تو رحمن خدا سے مغفرت کا طلب گار ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ بیشک ایسے تیز وار مجھ پر ہوں جو جھاگ کی طرح اڑا کر رکھ دیں۔“ أَوْطَعْنَةٍ بِيَدِى حَرَانِ مُجَهَّزَةٍ بِحِرْبَةٍ تَنْفُذُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا یا ایسے ہتھیا راور تیار کئے ہوئے تیر مجھ کو لگیں اور ایسے نیزے لگیں کہ جو آنتوں میں گھس کر جگر کے پار ہو جائیں۔مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔ہاں بس یہ ہو کہ خد اتعالیٰ کی راہ میں میری شہادت قبول ہو جائے۔حَتَّى يَقُولُواذَ مَرُّوا عَلَى جَدَتَيْ يَا رَشَدَ اللَّهُ مِنْ غَازِ وَقَد رَشَدًا اور جب لوگ میری قبر سے گذریں تو کہیں کہ خدا اس کا بھلا کرے یہ کیسا عظیم غازی تھا اور کیسی عظیم الشان شہادت اس کو عطا ہوئی۔یہ وہ تمنا ئیں تھیں جو حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے دل میں شہادت کیلئے مچل رہی تھیں۔موتہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ غسانیوں نے مسلمانوں کے خلاف ھرقل شاہ روم سے مدد طلب کی اور اس نے دولاکھ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلے کیلئے بھجوایا ہے۔اس موقع پر مسلمان امرائے لشکر نے با ہم مشورہ کیا کہ حضور کی خدمت میں پیغام بھیجنا چاہیئے کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے کمک بھجوائی جائے یا پھر جو حضور کا ارشاد ہو اس پر عمل کیا جائے۔اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے