سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 472 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 472

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 472 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ لِقِيْتِ إِن تَفْعَلِي فَعَلَّهُمَا هُدِيْتِ اے میرے نفس ! کیا تم اس طرح لڑائی نہیں لڑو گے کہ جان دے دو۔موت کے تالاب میں تم داخل ہو چکے ہو۔جو خواہش (شہادت کی ) تم نے کی تھی۔اسے پورا کرنے کا وقت آچکا ہے۔اب اگر جان کا نذرانہ پیش کر دو تو شاید نیک انجام پا جاؤ۔(15) مصعب بن شیبہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت زید اور حضرت جعفر بھی شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ میدان میں آگے تشریف لائے۔جب انہیں نیز ہ لگا تو خون کی ایک دھار جسم سے نکلی۔آپ نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور ان میں خون لے کر اپنے منہ کے اوپر مل لیا پھر وہ دشمن اور مسلمانوں کی صفوں کے درمیان گر گئے مگر آخری سانسوں تک سردار لشکر کے طور پر مسلمانوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور نہایت مؤثر جذباتی رنگ میں مسلمانوں کو انگیخت کرتے ہوئے اپنی مدد کیلئے بلاتے رہے کہ دیکھوائے مسلمانو! یہ تمھارے بھائی کا لاشہ دشمنوں کے سامنے پڑا ہوا ہے۔آگے بڑھو اور دشمنوں کو اپنے اس بھائی کے راستے سے دور کرو اور ہٹاؤ چنانچہ مسلمانوں نے اس موقع پر بڑے زور کے ساتھ کفار پر حملہ کیا اور پے در پے حملہ کرتے رہے یہاں تک کہ اس دوران حضرت عبد اللہ کی شہادت ہو گئی۔(16) آنحضرت کو اہل موتہ کی شہادت کا تمام حال کشف کے ذریعے سے بتایا گیا ، آپ نے صحابہ سے سرداران موتہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر آخر عبد اللہ بن رواحہ بھی شہید ہو گئے۔(17) رسول کریم ﷺ نے اپنے ان تینوں امراء لشکر کے بارے میں بیان فرمایا کہ میں نے ان کو جنت میں سونے کے تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔(18) زہد و عبادت حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی زندگی نہایت عابدانہ اور زاہدانہ تھی نبی کریم فرمایا کرتے تھے " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ الله بن رواحہ کہ عبداللہ بن رواحہ بھی کیا خوب اور کتنا اچھا آدمی ہے (19) شہادت کے بعد ان کی بیوہ کی شادی ہوئی تو اس شوہر نے کہا کہ عبد اللہ بن رواحہ کی پاکیزہ سیرت کے بارے میں مجھے کچھ بتاؤ خاتون نے کیا ہی خوبصورت گواہی دی۔کہنے لگیں حضرت عبد