سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 453
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 453 حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملاقات نہیں کر سکتا۔آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ کو روانہ کیا اور فرمایا کہ اپنی روایات کو ترک کر دینا، مناسب نہیں ہے اس لئے آپ جا کر فوری طور پر اس دروازے، گیٹ کو آگ لگا دیں جو مل کے آگے تعمیر کیا گیا ہے۔حضرت محمد بن مسلمہ تو تعمیل کرنا جانتے تھے۔انہوں نے کسی بات کی پرواہ کئے بغیر امیر کوفہ کے محل کے گیٹ کو آگ لگا دی۔امیر کوفہ حضرت سعد بن ابی وقاص کو خبر ہوئی تو وہ آئے محمد ابن مسلمہ نے بتایا کہ مجھے تو خلیفہ وقت نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔جس کی تعمیل واجب تھی اور حضرت سعد نے بھی یہ بات بخوشی قبول کی۔اس پہلو سے حضرت محمد بن مسلمہ حضرت عمرؓ کے بھی دست راست رہے۔(11) اور انہوں نے کمال اعتماد کرتے ہوئے بڑی بڑی ذمہ داریاں انہیں سونپی یہاں تک کہ جب یہ اطلاعیں آئیں کہ بعض علاقوں کے امراء نے بہت اموال جمع کر لیے ہیں تو حضرت عمرؓ نے اموال کی ایک حد مقرر فرما دی کہ اس حد تک ضرورت کے لئے رکھنے کی اجازت ہے اس سے زائد اموال نصف یا اس کے قریب واپس لے لئے جائیں۔عمال سے ان اموال کی واپسی کے لئے بھی حضرت محمد بن مسلمہ کو مقرر کیا گیا۔چنانچہ وہ نڈر اور بے باک ہو کر ان تمام امراء کے پاس پہنچے جو حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مقرر تھے۔اُن سے آپ نے وہ نصف اموال وصول کیے جو بیت المال میں جمع کئے گئے۔(12)۔حضرت عثمان نے حضرت محمد بن مسلمہ کو پچاس سواروں پر امیر مقرر کر کے مصر سے آنے والے باغیوں سے گفتگو کیلئے بھیجا۔ان میں سے ایک شخص قرآن ہاتھ میں لئے آگے بڑھا اور کہنے لگا یہ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم تلوار سے فلاں فلاں کو ہلاک کریں۔حضرت محمد بن مسلمہ نے اسے خاموش کروادیا اور فرمایا تمہاری پیدائش سے بھی پہلے ہم ان قرآنی احکام کی تعمیل کر چکے ہیں۔(13) شہادت حضرت محمد بن مسلمہ کی اولا ددس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔آپ کی وفات حضور کی پیشگوئی کے مطابق گھر میں بیٹھے ہوئے شہادت کی صورت میں ہوئی ، ایک شامی جوصو بہ اُردن کا رہنے والا تھا، قتل کے ارادے سے گھر میں گھس کر حملہ آور ہوا تلوار سے حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔مخالفین آپ پر